بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مرکزی رہنما سمی دین بلوچ نے ایک وڈیو بیان میں کہا ہے کہ ریاست نے بلوچستان میں جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل اور تشدد زدہ لاشوں کو پھینکنے کی ایک منظم اور منظم پالیسی نافذ کر رکھی ہے۔ یہ بحران روز بروز سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ اب یہ ظلم صرف مردوں تک محدود نہیں رہا بلکہ خواتین کو بھی جبری طور پر اغوا کر کے عقوبت خانوں میں رکھا جا رہا ہے۔ پاکستانی ریاست بلوچ عوام کو نشانہ بنانے سے باز آنے کے کوئی آثار ظاہر نہیں کر رہی۔
انہوں نے کہاکہ اسی تناظر میں، جبری گمشدگی یا ماورائے عدالت قتل کے ہر ایک واقعے کو ،بالخصوص وہ کیسز جو ابھی تک کسی بھی سرکاری یا غیر سرکاری ادارے میں رجسٹرڈ نہیں ہوئے فوری طور پر دستاویزی شکل دینا انتہائی ضروری ہے۔ ان مقدمات کے اندراج کو یقینی بنانا متاثرہ خاندانوں کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
وڈیو بیان میں کہا ہے کہ اس وقت (بلوچ یکجہتی کمیٹی) اس دستاویزی عمل پر کام کر رہی ہے۔ ہم تمام لوگوں سے اپیل کرتے ہیں کہ اپنے کیسز درج کروانے کے لیے بی وائی سی سے درج ذیل ذرائع کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس، ای میل اور بی وائی سی کے ہیومن رائٹس نمائندے سے رابطے کریں ۔
مزید کہاکہ ہم آپ سے پُرزور درخواست کرتے ہیں کہ یہ کیسز جلد از جلد جمع کروائیں۔ ہمارے تجربے کے مطابق، جب کوئی کیس رجسٹرڈ نہیں ہوتا یا کسی باقاعدہ ریکارڈ کا حصہ نہیں بنتا، اور بعد ازاں وہ شخص قتل کر کے لاش کی صورت میں پھینک دیا جاتا ہے، تو متاثرہ خاندان اور تنظیم کے پاس یہ ثابت کرنے کے لیے ضروری شواہد موجود نہیں ہوتے کہ وہ شخص جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا۔ کیس کی رجسٹریشن ہی احتساب کے لیے ہمارا سب سے اہم اور مؤثر ذریعہ ہے۔
انہوں نے کہاکہ جب ہم بلوچ نسل کشی ، جس میں ہراسانی، تشدد، جبری گمشدگیاں اور نفسیاتی اذیت شامل ہیں کے بارے میں عالمی برادری سے بات کرتے ہیں، تو ہمارے پاس ہر فرد کی کہانی اور ہر کیس کا جامع ریکارڈ ہونا ناگزیر ہے۔ یہ عالمی سطح پر مؤثر آواز اٹھانا اسی صورت ممکن ہے جب آپ ہمارے ساتھ تعاون کریں اور مطلوبہ تفصیلات فراہم کر کے کیس رجسٹر کروائیں۔
آخر میں کہاکہ براہِ کرم اپنے پیارے کی زندگی کے تحفظ کے لیے کیس فوری طور پر رجسٹر کروائیں۔
















































