بی ایل اے کے آپریشن “ہیروف” کے دوسرے مرحلے کا اعلان، کوئٹہ سمیت کئی شہروں میں صورتحال کشیدہ

174

بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ہفتے کی صبح مسلح جھڑپوں اور دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جبکہ بلوچ لبریشن آرمی “بی ایل اے” نے اپنے آپریشن “ہیروف” کے دوسرے مرحلے کے آغاز کا اعلان کیا ہے۔

بلوچستان کے کئی اضلاع میں سیکیورٹی صورتحال شدید کشیدہ بتائی جا رہی ہے۔

کوئٹہ: ریڈ زون میں فائرنگ اور دھماکوں کی اطلاعات

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے نہایت حساس علاقے ریڈ زون میں فائرنگ اور دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، شہر میں مختلف مقامات پر دھماکوں اور فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے۔

نوشکی: سینٹرل جیل اور ایف سی ہیڈکوارٹر کے قریب جھڑپیں

ذرائع کے مطابق نوشکی کی سینٹرل جیل کے نزدیک شدید فائرنگ کی اطلاعات ہیں اور بعض غیر مصدقہ اطلاعات میں بی ایل کی سینٹر جیل پر قبضے کے اطلاعات۔

ادھر نوشکی میں ایف سی ہیڈکوارٹر کے قریب بھی مسلح جھڑپیں جاری ہیں، جہاں گولہ باری اور شدید فائرنگ کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ جبکہ نوشکی میں سی ٹی ڈی آفس کو بی ایل اے کے سرمچاروں نے اپنے قبضے میں لے کر متعدد اہلکاروں کو گرفتار کرلیا ہے۔

کچھی، ڈھاڈر مسلح افراد کا پولیس پر حملہ

کچھی کے علاقے ڈھاڈر میں درجنوں مسلح افراد کے شہر میں داخل ہونے کے بعد پولیس پر حملہ، حملے میں پولیس کی کئی گاڑیاں نذرآتش، متعدد اہلکاروں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

قلات: فورسز کے کیمپ کے دروازے پر دھماکہ، جھڑپیں جاری

قلات میں اس کے مسلح افراد نے ایک کارروائی کے دوران فورسز کے کیمپ کے مرکزی دروازے کو بارود سے بھری گاڑی کے ذریعے نشانہ بنایا جس کے بعد مسلح جھڑپیں شروع ہوگئیں۔

کوئٹہ سریاب روڈ: پولیس موبائل پر حملہ

کوئٹہ کے علاقے سریاب روڈ پر سریاب پولیس تھانہ کے قریب ایک پولیس موبائل پر مسلح افراد نے حملہ کیا، جس کے نتیجے میں دو پولیس اہلکاروں کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں، پولیس موبائل مکمل طور پر جل کر خاکستر ہوگئی۔

ریلوے اسٹیشن کی جانب سے بھی فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں سنیں گئی ہے۔

بی ایل اے کا آپریشن “ہیروف” کا دوسرا مرحلہ شروع

بلوچ لبریشن آرمی نے اپنے ایک مختصر بیان میں کہا ہے کہ آپریشن ہیروف کا دوسرا مرحلہ بلوچستان کے مختلف اضلاع میں شروع کر دیا گیا ہے، تنظیم نے اسے “ریاستی سکیورٹی اور انتظامی ڈھانچوں کے خلاف مزاحمت” قرار دیا ہے بیان میں مقامی آبادی سے تنظیم کے ساتھ تعاون کی اپیل بھی کی گئی ہے۔

بی ایل اے کے آفیشل ہینڈلز پر حملوں کی ذمہ داری سے متعلق پیغامات اور ویڈیوز بھی جاری کی گئی ہیں۔

تنظیمی سربراہ کا پیغام

بی ایل اے کے سربراہ بشیر زیب نے ایک طویل پیغام جاری کیا ہے جس میں بلوچ عوام کو گھروں سے نکلنے اور پاکستانی فورسز کے خلاف لڑنے کی کال دی گئی ہے، یہ پیغام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور تنظیم کے آفیشل چینلز پر نشر کیا گیا ہے۔