بی ایل اے کو مذاکرات کے ذریعے قومی دھارے میں لانا ممکن نہیں ہے، عبدالرحمان کھیتران

1

بلوچستان کے وزیر پبلک ہیلتھ انجینیئرنگ اینڈ واسا عبدالرحمان کھیتران نے الزام لگایا ہے کہ بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) میں شامل افراد بلوچستان میں کام کرنے والی کمپنیوں سے کروڑوں روپے بھتہ لے رہے ہیں اور انہیں مذاکرات کے ذریعے قومی دھارے میں لانا ممکن نہیں ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو کو انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ اگرچہ سکیورٹی ادارے موثر کارروائی کر رہے ہیں لیکن بی ایل اے کو جڑ سے اکھاڑنے میں رعایت کے باعث پوری طرح امن قائم نہیں ہوپارہا۔

انہوں نے مزید کہا ہے کہ وہ مذاکرات سے قومی دھارے میں آنے کو تیار نہیں۔ فوجی آپریشن سے بہت حد تک ان کا خاتمہ ہوا ہے لیکن جب ریاست ماں ہونے کا خیال کر کے ان پر ترس کھاتی ہے تو یہ اس کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں۔ لہٰذا جب تک ان کے خلاف موثر کارروائی نہیں ہوتی انہیں اسلحہ اٹھانے سے نہیں روکا جاسکتا ہے۔

کھیتران کا کہنا تھا کہ ’ہماری بلوچستان حکومت کی کارکردگی اتنی بہتر نہیں جو ہونی چاہیے۔ اس بار بھی وہاں ڈھائی ڈھائی سال کے لیے وزارت اعلیٰ کا فارمولا ہے۔ پہلے پیپلز پارٹی اب مسلم لیگ ن کا وزیر اعلیٰ بنے گا۔

خیال رہے کہ بلوچ لبریشن آرمی کا بنیادی موقف و بیانیہ رہا ہے کہ پاکستان بلوچستان پر قابض ہے اور بی ایل اے بطور قومی فوج اس قبضے سے نجات کیلئے لڑ رہی ہے۔

جبکہ بلوچ لبریشن آرمی گذشتہ سال جعفر ایکسپریس ہائی جیکنگ کے موقع پر فوجی اہلکاروں کی رہائی کے بدلے مشروط بات چیت کا اعلان کیا تھا۔