بلوچ یکجہتی کمیٹی کی انسانی حقوق سالانہ رپورٹ، جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل میں اضافہ

18

بی وائی سی کے مطابق بلوچستان عملی طور پر ایک بہت بڑی جیل اور ایک اور بہت بڑی ڈیتھ سیل میں تبدیل ہو چکا ہے۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی “بی وائی سی”نے بلوچستان میں سال 2025 کے دوران انسانی حقوق کی صورتحال سے متعلق اپنی سالانہ رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل اور ریاستی جبر میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بی وائی سی کے نمائندوں نے کہا کہ رپورٹ بلوچستان میں جاری مظالم کی مکمل تصویر پیش نہیں کرتی بلکہ یہ محض “ٹِپ آف دا آئس برگ” ہے جو بلوچستان میں انسانی حقوق کی بگڑتی صورتحال کا اندازہ لگانے کے لیے کافی ہے۔

ان کے مطابق بلوچستان عملی طور پر ایک بہت بڑی جیل اور ایک اور بہت بڑی ڈیتھ سیل میں تبدیل ہو چکا ہے۔

بی وائی سی سالانہ رپورٹ کے مطابق 2025 میں بلوچستان میں 1223 افراد کی جبری گمشدگی کے کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں سے 348 افراد کو رہا کیا گیا جبکہ 832 تاحال لاپتہ ہیں، ان میں 75 نابالغ اور 18 خواتین بھی شامل ہیں، سب سے زیادہ کیسز ضلع کیچ میں رپورٹ ہوئے جو 339 ہیں۔

بی وائی سی نے کہا گذشتہ سال 188 ماورائے عدالت قتل کے واقعات ریکارڈ کیے گئے، جن میں سے 75 افراد کو ریاست کی جانب سے بلوچستان میں دہائیوں سے جاری مارو اور پھینکو پالیسی کے تحت قتل کیا گیا، مکران ڈویژن اور آواران ان واقعات سے سب سے زیادہ متاثر رہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2025 کے دوران بلوچستان میں روزانہ کی بنیاد پر بڑے پیمانے پر فوجی آپریشنز کیے گئے، جن کے نتیجے میں شہری آبادی، خواتین اور بچوں سمیت عام لوگ متاثر ہوئے، خضدار کے علاقے زہری میں فضائی حملوں کے نتیجے میں 20 شہریوں کی ہلاکت کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

بی وائی سی کے مطابق سال بھر میں جبری گمشدگیوں کے خلاف 122 سے زائد پرامن احتجاجات کیے گئے، جن میں سے کم از کم 39 مظاہروں کو طاقت کے ذریعے منتشر کیا گیا، جبکہ 400 سے زائد مظاہرین کو گرفتار اور درجنوں کو زخمی کیا گیا۔

تنظیم نے کہا ہے بلوچستان میں قانونی نظام کو انسانی حقوق کے کارکنوں، سیاسی کارکنوں اور سول سوسائٹی کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے اور انسداد دہشت گردی قوانین، تھری ایم پی او اور سیکشن 144 کے تحت پرامن آوازوں کو دبایا جا رہا ہے۔

بی وائی سی نے کہا کہ اس کے پانچ رہنما، جن میں تنظیم کی مرکزی آرگنائزر ڈاکٹر ماہ رنگ بھی شامل ہیں اس وقت قید میں ہیں جبکہ دیگر کارکنان کو ہراسانی کا سامنا ہے۔

پریس کانفرنس کے اختتام پر بی وائی سی نے میڈیا سے مطالبہ کیا کہ وہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال کو ذمہ دارانہ انداز میں اجاگر کرے اور مظلوم عوام کی آواز بنے۔