بلوچ نسل کشی یادگاری دن، بلوچستان بھر میں تقریبات اور آگاہی مہم

1

بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مطابق 25 جنوری کو بلوچ نسل کشی یادگاری دن کے موقع پر بلوچستان کے مختلف علاقوں میں تقریبات اور پروگرامز منعقد کیے گئے۔ ان پروگرامز کا مقصد ان ہزاروں بلوچ مردوں، خواتین اور بچوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنا تھا جو ریاستی پالیسیوں، نام نہاد ترقیاتی منصوبوں، ایٹمی سرگرمیوں، یورینیم کان کنی اور ماحولیاتی تباہی کے نتیجے میں اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔

تنظیم کے مطابق کوئٹہ میں بلوچ نسل کشی یادگاری دن کے موقع پر ایک سیمینار منعقد کیا گیا، جس میں توتک میں اجتماعی قبروں اور مسخ شدہ لاشوں کی دریافت کو یاد کیا گیا۔ یہ دن بلوچ عوام کے لیے درد، ظلم اور اجتماعی یادداشت کی علامت ہے۔

سیمینار کے دوران جبری گمشدگی کا شکار افراد کے لواحقین نے اپنے طویل اور کربناک حالات بیان کیے۔

اس موقع پر بلوچ یکجہتی کمیٹی کے زیرِ حراست رہنماؤں کے اہلِ خانہ نے بتایا کہ کس طرح ریاست قانون کو بلوچ عوام کے خلاف ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے تاکہ تحریکِ مزاحمت کو خاموش کیا جا سکے۔

سیمینار میں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، بیبو بلوچ، گلزادی بلوچ، شاجی بلوچ اور بیبگر بلوچ کی غیر قانونی گرفتاریوں کو اجاگر کیا گیا۔

ڈاکٹر صبیحہ نے بلوچستان میں انسانی حقوق کی مسلسل اور منظم خلاف ورزیوں پر تفصیلی روشنی ڈالی۔

مقررین نے کہا کہ ریاست کسی بھی پُرامن احتجاج کو سننے کے لیے تیار نہیں، اور جو بھی ریاستی جبر کے خلاف آواز اٹھاتا ہے اسے تشدد، ہراسانی اور جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

بی وائی سی کے مطابق سیمینار کا اختتام ایک واضح اور طاقتور پیغام پر ہوا کہ جتنا زیادہ ہمیں دبایا جائے گا، اتنی ہی مضبوطی سے ہم ابھریں گے۔ ہماری آواز کو دبانے کے لیے استعمال کیے جانے والے تمام ہتھکنڈے ناکام ہوں گے۔ انصاف کے لیے ہماری جدوجہد جاری رہے گی، اور ہم دنیا کو ان مظالم کی حقیقت بتاتے رہیں گے۔

بی وائی سی کے تنظیم رخشان ریجن کے زیرِ اہتمام 25 جنوری 2026 کو بلوچ نسل کشی یادگاری دن کے موقع پر ایک اہم سیمینار منعقد کیا گیا۔

پروگرام کا آغاز شہدائے توتک کی یاد میں ایک منٹ کی خاموشی سے کیا گیا، جس کے بعد مقررین نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

سیمینار سے جبری لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ، بلوچ یکجہتی کمیٹی کے ریجنل اور زونل عہدیداران، نیز سیاسی و سماجی کارکنان نے خطاب کیا۔ مقررین نے بلوچ نسل کشی کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرتے ہوئے ریاستی جبر، منظم تشدد، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور بلوچ عوام کو درپیش اجتماعی خطرات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔

تقریب کے شرکاء نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر بلوچ نسل کشی کے خلاف نعرے درج تھے۔

انہوں نے کہاکہ 25 جنوری ہمیں 2014 کی اُس دلخراش یاد کی طرف لے جاتا ہے جب خضدار کے علاقے توتک سے ایک ساتھ 169 جبری لاپتہ بلوچ افراد کی مسخ شدہ لاشیں برآمد ہوئیں۔

27 جنوری 2024 کو بلوچ یکجہتی کمیٹی کی مرکزی آرگنائزر ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے ایک عظیم الشان عوامی جلسے سے اعلان کیا تھا کہ ہر سال 25 جنوری کو بلوچ نسل کشی کے دن کے طور پر یاد کیا جائے گا۔

اسی سلسلے میں تونسہ، کوہِ سلیمان میں ایک پُرامن اور علامتی مظاہرہ منعقد کیا گیا، جہاں کینسر کے باعث جان بحق ہونے والے بلوچ افراد کی تصاویر پھولوں اور شمعوں کے ساتھ آویزاں کی گئیں۔

مظاہرین نے اس بات کو اجاگر کیا کہ ریاستی ایٹمی منصوبے اور کارپوریٹ مفادات مقامی بلوچ آبادی کو انسان نہیں بلکہ قربانی کے قابل وسائل سمجھتے ہیں۔ قومی مفاد کے نام پر زمینیں لوٹی جا رہی ہیں، ماحول کو زہر آلود کیا جا رہا ہے، اور انسانی جانوں کے ضیاع پر کسی قسم کی جوابدہی موجود نہیں۔

مظاہرین نے اس امر پر بھی زور دیا کہ اگرچہ کوہِ سلیمان انتظامی طور پر پنجاب جیسے ترقی یافتہ صوبے میں شامل ہے، مگر چونکہ یہ بلوچ اکثریتی علاقہ ہے، اس لیے اسے دانستہ طور پر پسماندہ رکھا گیا ہے۔ یہاں نہ معیاری ہسپتال ہیں، نہ تعلیمی ادارے، اور نہ ہی بنیادی سہولیات۔ یہ محرومی کسی حادثے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک منظم ریاستی پالیسی کا عکاس ہے۔

شرکاء کا واضح پیغام تھا کہ یہاں کینسر سے ہونے والی ہر موت محض قدرتی نہیں بلکہ ریاستی جبر کا نتیجہ ہے۔

سوراب، بلوچستان میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کارکنوں نے بلوچ نسل کشی یادگاری دن کے موقع پر ایک وسیع آگاہی مہم چلائی۔ سوراب کے مرکزی بازار سے لے کر کِلی ڈمب، کِلی سرخ، کِلی عزیز آباد، دُن، حاجکہ اور نگہار سمیت دور دراز بستیوں تک آگاہی پمفلٹس تقسیم کیے گئے، تاکہ نسل کشی کی دستاویزی حقیقت ہر فرد اور ہر گھر تک پہنچ سکے۔

اس مہم میں عوام کی بھرپور شرکت دیکھنے میں آئی۔ بچے، بزرگ، کسان، دکاندار، مزدور، طلبہ اور خواتین نے آگاہی مواد حاصل کیا اور مہم کا حصہ بنے۔

تربت، کیچ میں بھی بلوچ نسل کشی یادگاری دن کے موقع پر ایک سیمینار منعقد کیا گیا جس میں عوام نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ شرکاء نے بلوچ شہداء کو یاد کیا اور انسانی حقوق کے لیے آواز بلند کی۔

اس موقع پر توتک سانحے کو بھی یاد کیا گیا، جہاں جبری گمشدگی کا شکار 100 سے زائد بلوچ افراد کی لاشیں اجتماعی قبروں سے برآمد ہوئیں اور انہیں لاوارث قرار دیا گیا۔ متاثرہ خاندان آج بھی انصاف کے منتظر ہیں۔

مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ 25 جنوری کوئی جشن نہیں بلکہ درد، یادداشت اور مزاحمت کی علامت ہے۔ یہ دن بلوچ قوم کے اجتماعی زخموں کو یاد رکھنے اور انصاف کے مطالبے کو زندہ رکھنے کا دن ہے۔

اختتام پر یہ واضح کیا گیا کہ بلوچ نسل کشی ایک زندہ اور ناقابلِ تردید حقیقت ہے، اور جب تک ظلم کا خاتمہ اور انصاف کی فراہمی ممکن نہیں ہوتی، یاد، مزاحمت اور جدوجہد جاری رہے گی