
بلوچ مسلح تنظیموں کے حملوں میں سال 2022 سے 2025 کے درمیان 63 فیصد اضافہ ہوا، جس کے دوران 4,515 پاکستانی فوجی اہلکار ہلاک ہوئیں، ان میں سے تقریباً 50 فیصد ہلاکتیں بلوچ لبریشن آرمی و 50 فیصد دیگر بلوچ مسلح تنظیموں سے منسوب ہیں۔ ان چار سالوں کے دوران 331 بلوچ جنگجو جان سے گئے جبکہ حملوں کا جغرافیائی دائرہ تیزی سے پھیلا اور 1,079 مقامات پر حملے ریکارڈ کیے گئے، جس سے بلوچ مسلح تنظمیوں کے آپریشنل رسائی اور شدت میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ 50 فیصد سے زائد پاکستانی فوجی ہلاکتیں بی ایل اے سے منسوب ہیں۔

گزشتہ چار سالوں کے دوران پاکستانی فورسز کی ہلاکتوں میں مسلسل اضافہ ہوا ہے اور بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کی سرگرمی میں تیزی نظر آئی ہے۔ پاکستانی فوج کی ہلاکتیں چار ہندسوں کے اعداد و شمار تک پہنچ گئی۔ اس عرصے کے دوران بی ایل اے کی کارروائیوں سے منسلک پاکستانی فورسز کی ہلاکتوں میں 44 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ 2022 سے 2025 کے درمیان حملوں میں 40 فیصد کی (سی اے جی آر) کی شرح سے اضافہ ہوا۔ گزشتہ سال سب سے مہلک حملوں میں جعفر ایکسپریس کی ہائی جیکنگ اور نوشکی میں فوجی بسوں کے قافلے پر حملے، جن میں مجمومی طور پر 450 پاکستانی فوجی مارے گئے، شامل ہیں جبکہ بلوچستان بھر میں مسلح حملے رکارڈ کئے گئے۔ اس سال بی ایل اے کے 72 جنگجو مارے گئے،جن میں 10 ‘فدائین’ شامل ہیں، یہ جنگجو بنیادی طور پر جھڑپوں اور ڈرون حملوں میں مارے گئے۔

گزشتہ چار سالوں کے دوران، بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) کی سرگرمیوں میں مسلسل اضافہ ہوا ہے، حملوں میں اوسطاً 49 فیصد کے (سی اے جی آر) کا اضافہ ہوا ہے اور اسی عرصے کے دوران بی ایل ایف کی جانب سے 38 فیصد ہلاکتوں کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ پچھلا سال بی ایل ایف کے لئے اہم تھا، جس میں اس کے نو تشکیل شدہ ونگ ‘سوب’ نے نوکنڈی ‘فدائی’ حملہ سرانجام دیا جو تنظیم کی تاریخ میں پہلا مہلک ترین حملہ ہے اور آپریشن بام کے نام سے مسلح مہم بھی سر انجام دیا گیا۔ اس سال بی ایل ایف کے 42 جنگجو مارے گئے، جن میں چھ فدائی شامل ہیں، بی ایل ایف کے جنگجو مسلح جھڑپوں اور ٹارگٹڈ کارروائیوں میں مارے گئے۔

2022 اور 2025 کے درمیان، براس ( بلوچ مسلح تنظیموں کے اتحاد) سے منسوب حملوں میں تقریباً 342 فیصد کا اضافہ ہوا، جبکہ پاکستانی فورسز کو ہونے والے جانی نقصانات میں تقریباً 307 فیصد کا اضافہ ہوا، جو براس کے آپریشنل شدت میں نمایاں اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔ 2025 میں براس نے وسیع صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا، جس میں خضدار کے زہری ٹاؤن پر ایک ماہ سے زیادہ کنٹرول حاصل کرنا شامل ہے۔ اس دوران براس جنگجوؤں کو عوام سے خطاب کرتے اور قصبے میں گشت کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ براس نے مارچ اور اگست میں بھی مربوط حملے کیے اور پنجگور کے علاقے گوران میں فوجی کیمپ پر قبضہ کیا ۔

دیگر آزادی پسند مسلح تنظموں بشمول بی آر جی، بی آر اے اور یو بی اے کے حملوں میں 25 فیصد اضافہ رکارڈ کیا گیا اور پاکستانی فوج کو ہونے والی ہلاکتوں میں 13 فیصد اضافہ ہوا۔ ان تنظمیوں نے بنیادی طور پر انفراسٹرکچر اور ریاستی اثاثوں پر حملے کئے، اور سندھ و پنجاب سمیت یہ تنظمیں 34 اضلاع میں سرگرم رہیں۔















































