بلوچ ریپبلکن گارڈزنے میڈیا کو جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ سال 2025 کے دوران انکے سرمچاروں نے بلوچستان، سندھ اور پنجاب کے مختلف علاقوں میں مجموعی طور پر 88 حملے کیے۔
تنظیم کے بیان کے مطابق 13 حملے پاکستانی فورسز کے زیرِ استعمال ٹرینوں اور ریلوے ٹریکس پر کیے گئے۔ ان میں 10 حملے جعفر ایکسپریس، بولان میل اور سکھر ایکسپریس پر کیے گئے جبکہ تین مواقع پر ریلوے ٹریک کو اڑا دیا گیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ان ٹرینوں کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب پاکستانی فورسز کے اہلکار ان میں سفر کر رہے تھے، جس کے نتیجے میں فورسز اور ٹرینوں کو شدید نقصان پہنچا۔
بیان کے مطابق دیگر حملوں میں پاکستانی فورسز، پولیس، عسکری تعمیراتی کمپنیوں، گیس پائپ لائنز، موبائل فون ٹاورز اور بجلی کے ٹاورز کو نشانہ بنایا گیا۔
تنظیم کا دعویٰ ہے کہ ان کارروائیوں میں 22 اہلکار ہلاک جبکہ 35 اہلکار شدید زخمی ہوئے۔ مزید برآں 12 گاڑیاں تباہ کی گئیں جن میں پولیس وین، فوجی گاڑیاں اور عسکری تعمیراتی کمپنیوں کے زیرِ استعمال ایکسیویٹرز، رولرز اور ٹریکٹرز شامل ہیں۔
پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ 12 گیس پائپ لائنوں کو تباہ کیا گیا جبکہ 5 موبائل فون ٹاورز اور بجلی کے ٹاورز کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔
بیان کے آخر میں بلوچ ریپبلکن گارڈز نے کہا ہے کہ وہ پاکستانی فوج اور اس کے مبینہ شراکت داروں کو مسلسل نشانہ بناتے رہیں گے اور اپنی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہیں۔



















































