بلوچ خواتین کی جبری گمشدگیاں ریاستی جبر میں خطرناک توسیع ہیں۔ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ

1

بلوچستان میں بلوچ خواتین کی جبری گمشدگیاں ریاستی تشدد میں ایک سنگین اور خطرناک اضافہ ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ ریاست اب جبری گمشدگی کو ایک منظم اور صنفی حکمتِ عملی کے طور پر استعمال کر رہی ہے، یہ بات بلوچ یکجہتی کمیٹی کی اسیر مرکزی آرگنائزر ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے ایک بیان میں کہی۔

انہوں نے کہا کہ دہائیوں سے بلوچ عوام کو ایک مشکوک اور حاشیہ پر رکھی گئی آبادی کے طور پر ٹریٹ کیا جا رہا ہے، جہاں حکمرانی شمولیت اور آئینی حقوق کے بجائے جبر، خوف اور طاقت کے ذریعے کی جا رہی ہے۔ جبری گمشدگی، جو پہلے بلوچ مردوں کے خلاف استعمال ہوتی رہی، اب خواتین اور بچیوں تک پھیلا دی گئی ہے، جن میں طالبات، نابالغ بچیاں، حاملہ خواتین اور معذور افراد بھی شامل ہیں، حالانکہ ان میں سے اکثر کا کسی سیاسی سرگرمی سے کوئی تعلق نہیں۔

ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کے مطابق یہ عمل محض سیکیورٹی کا مسئلہ نہیں بلکہ نوآبادیاتی طرزِ حکمرانی اور نیكروپولیٹیکل طاقت کا مظہر ہے، جہاں ریاست یہ طے کرتی ہے کہ کن زندگیاں قابلِ تحفظ ہیں اور کنہیں سماجی و قانونی طور پر مٹا دیا جائے۔ اس تناظر میں بلوچ شناخت کو ہی جرم بنا دیا گیا ہے اور خواتین کی جبری گمشدگیاں اجتماعی سزا کی شکل اختیار کر چکی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بلوچ خواتین نے جب اپنے لاپتہ عزیزوں کی تلاش شروع کی، احتجاج منظم کیے اور عدالتوں و ریاستی اداروں سے سوالات کیے، تو ریاستی بیانیہ بے نقاب ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ اب خواتین کو براہِ راست نشانہ بنایا جا رہا ہے تاکہ مزاحمت کی سماجی بنیادوں کو کمزور کیا جا سکے۔

ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے واضح کیا کہ جبر اور شناخت پر مبنی تشدد کبھی بھی خاموشی یا تابعداری پیدا نہیں کرتا بلکہ یہ سیاسی شعور، اجتماعی یکجہتی اور مزاحمت کو مزید مضبوط کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچ خواتین کی جبری گمشدگیاں کوئی سیکیورٹی اقدام نہیں بلکہ ایک منظم، نوآبادیاتی عمل ہیں جن کا مقصد خوف کے ذریعے پورے معاشرے کو کنٹرول کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ اشاعت اور دستاویزی کاوشیں بلوچ عوام کی اجتماعی یادداشت کا حصہ ہیں، جو جبری گمشدگیوں کو محض اعداد و شمار بننے سے روکتی ہیں اور اس جبر کے خلاف مرئیت، سچ اور انصاف کے مطالبے کو زندہ رکھتی ہیں۔