بلوچستان: 3 افراد جبری لاپتہ، 6 بازیاب

24

بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور حالیہ دنوں میں جبری گمشدگی کے نئے واقعات سامنے آئے ہیں، جو صوبے میں انسانی حقوق کی سنگین صورتحال کو مزید نمایاں کرتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق پاکستانی فورسز نے مہران ولد بیگ محمد سکنہ بل نگور، دشت کو تربت اسپتال سے رات دو بجے حراست میں لے کر نامعلوم مقام منتقل کر دیا۔ جبری طور پر لاپتہ کیا گیا مہران نرسنگ کی تربیت حاصل کر رہا تھا۔

اسی طرح سہیل ولد لال بخش عمر 31 سال، سکنہ پروم، پنجگور کو 14 جنوری 2026 کو رات دو بجے ان کے گھر سے پاکستانی فورسز نے جبری طور پر لاپتہ کر دیا۔

جبکہ منیر ولد جان محمد عمر 42 سال، سکنہ پانوان، جیونی، گوادر کو 13 جنوری 2026 کو رات دو بجے گوادر سے پاکستانی فورسز نے حراست میں لے کر نامعلوم مقام منتقل کر دیا۔

دوسری جانب پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری گمشدگی کا شکار چھ افراد بازیاب ہو کر اپنے گھروں کو پہنچ گئے ہیں۔

بازیاب ہونے والوں میں امجد ولد محمد سکنہ مستونگ، صغیر الٰہی ولد الٰہی بخش، سلام ولد خالد اور سراج ولد برکت سکنہ ہوت آباد، کیچ شامل ہیں، جنہیں 7 جنوری 2026 کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا اور بعد ازاں 14 جنوری 2026 کو رہا کر دیا گیا۔

جبکہ فضیل رفیق ولد محمد رفیق سکنہ بلگاثر، کیچ کو بھی 7 جنوری 2026 کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا، جنہیں 14 جنوری 2026 کو بالیچہ، تمپ، کیچ کے علاقے سے رہا کیا گیا۔

اسی طرح پرویز ولد سفر سکنہ کیلکور، کیچ کو 20 اکتوبر 2025 کو جبری طور پر اغوا کیا گیا تھا، جنہیں 13 جنوری 2026 کو ڈی سی آفس تربت، کیچ سے رہا کیا گیا۔