بلوچستان کے کئی اضلاع غیر ریاستی مسلح گروپوں کے حصار میں، حکومت اور فورسز نظر نہیں آئیں – حافظ حمداللہ

115

جمعیت علماء اسلام کے مرکزی رہنما اور سابق سینیٹر حافظ حمد اللہ نے کہا کہ کوئٹہ اور بلوچستان میں حکومت کس کی ہے؟ دو دن پہلے وزیر اعلیٰ صاحب نے زوردار دعویٰ کیا تھا کہ کوئٹہ بلوچستان کے کنٹرول میں ہے، لیکن آج پورے بلوچستان میں، خصوصاً کوئٹہ سمیت، کہیں بھی حکومتی رٹ دکھائی نہیں دے رہی۔

انہوں نے مزید کہا کہ کوئٹہ سمیت بلوچستان کے کئی اضلاع آج صبح سے کئی گھنٹے غیر ریاستی مسلح گروپوں کے حصار میں رہے، مگر حکومت اور سیکیورٹی فورسز کہیں بھی نظر نہیں آئیں۔ لہٰذا بلوچستان پر مصنوعی سیاسی قیادت کی برائے نام حکومت مسلط کی گئی ہے۔ عوام کی جان، مال، عزت اور آبرو غیر محفوظ ہے، اور حکومت کو اپنی ناکامی تسلیم کرتے ہوئے مستعفی ہو جانا چاہیے۔ موجودہ جعلی حکومت اور اسمبلی عوام پر بوجھ بن چکی ہے۔

حافظ حمد اللہ نے یہ بھی کہا کہ بلوچستان میں بدامنی اور فساد کی جڑ موجودہ حکومت اور اس کی منفی پالیسیاں اور فیصلے ہیں۔ جو بھی نقصان بلوچستان میں ہوگا، اس کا ذمہ دار نااہل اور بے اختیار حکومت ہوگی۔

خیال رہے کہ بلوچستان میں بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کی جانب سے جاری آپریشن “ہیروف 2” کے تحت حملوں میں مزید شدت آئی ہے۔ مختلف اضلاع سے خودکش حملوں، مسلح جھڑپوں اور سرکاری تنصیبات پر قبضے کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔

مسلح افراد کے ہاتھوں ایک اور صوبائی اسمبلی کے رکن، ظفر اللہ زہری، کو حراست میں لیے جانے اور بعد ازاں رہائی کی بھی اطلاعات ملی ہیں۔

اب تک کی دستیاب معلومات کے مطابق بی ایل اے کے حملوں میں ایک تحصیلدار ہلاک ہوا ہے، جبکہ ڈپٹی کمشنر نوشکی کو حراست میں لیے جانے کی تصدیق ہو چکی ہے۔ اس کے علاوہ جھڑپوں میں ایس ایچ او سمیت متعدد پولیس اہلکار مارے گئے ہیں۔

مزید برآں نوشکی سمیت مختلف علاقوں میں پاکستانی فورسز کے کیمپوں پر خودکش حملے اور جھڑپیں متعدد مقامات پر جاری ہیں۔