بلوچستان کی شورش: طاقت، انکار اور بڑھتا ہوا تصادم
ایک تجزیاتی مطالعہ
تحریر: اسد بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
بلوچستان میں گزشتہ دو دہائیوں سے جاری شورش کم ہونے کے بجائے مسلسل شدت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ یہ محض ایک سیکیورٹی چیلنج نہیں بلکہ ایک گہرا سیاسی، سماجی اور نفسیاتی بحران ہے جس کے اثرات اب ریاستی بیانیے، داخلی استحکام اور بین الاقوامی مفادات تک پھیل چکے ہیں۔ خاص طور پر حالیہ برسوں میں خواتین کی براہِ راست مسلح جدوجہد میں شمولیت نے اس شورش کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے، جسے ریاستی طاقت کے مراکز نے یا تو کم اہم سمجھا یا مکمل طور پر نظر انداز کیا۔
طاقت کا فریب اور مسئلے سے انکار
ایک بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا پنڈی کی طاقتور قوتیں واقعی بلوچ مسئلے کی حساسیت کو سمجھنے سے قاصر ہیں یا وہ یہ سمجھتی ہیں کہ طاقت کے استعمال سے اس مسئلے کو ختم کیا جا سکتا ہے۔ شواہد یہ ظاہر کرتے ہیں کہ مسئلہ لاعلمی کا نہیں بلکہ دانستہ انکار کا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کے طاقتور حلقوں کے نزدیک بلوچ مسئلے کو تسلیم کرنا اس کے بین الاقوامی پہلو کو نمایاں کر سکتا ہے، جس سے ریاست کو سفارتی دباؤ اور عالمی تنقید کا سامنا ہو سکتا ہے۔ تاہم اس انکار کی پالیسی نے خود ریاست کو زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔
اگر بلوچستان میں حالات سازگار ہوتے تو سی پیک جیسے بڑے منصوبے حقیقی معنوں میں ثمر آور ہو سکتے تھے۔ اسی طرح سیندک، ریکوڈک اور دیگر معدنی وسائل سے متعلق معاہدات ریاست کے لیے کہیں زیادہ فائدہ مند ثابت ہوتے۔ لیکن مسلسل بدامنی، عدم اعتماد اور مزاحمت نے ان تمام امکانات کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔
غیر ریاستی مسلح عناصر: ایک ناکام حکمتِ عملی
ریاستی طاقت کے براہِ راست استعمال کے ساتھ ساتھ مقامی سطح پر غیر ریاستی مسلح گروہوں کو منظم کرنا ایک ایسی حکمتِ عملی رہی ہے جس نے حالات کو مزید بگاڑا۔ مختلف علاقوں میں ڈیتھ اسکواڈ یا دیگر ناموں سے سرگرم گروہوں میں زیادہ تر جرائم پیشہ یا سماجی طور پر مسترد شدہ عناصر کو شامل کیا گیا۔ ان عناصر کو قوم پرست اذہان کے خلاف استعمال کرنے کا نتیجہ سماجی انتشار کی صورت میں نکلا، لیکن ریاست کو نہ تو امن ملا اور نہ ہی سیاسی استحکام۔ اس کے برعکس اس عمل نے ریاست اور معاشرے کے درمیان خلیج کو مزید گہرا کیا۔
جبری گمشدگیاں: شورش کا بنیادی ایندھن
دو دہائیوں سے جاری شورش کا ایک مرکزی محرک جبری گمشدگیاں ہیں۔ ان پر روک لگانے یا قانونی فریم ورک کے ذریعے نمٹنے کے بجائے یہ عمل ایک منظم شکل اختیار کر چکا ہے۔ جبری گمشدگیوں کے بعد مسخ شدہ لاشوں کا ملنا آج بھی شورش کو ہوا دینے کا سب سے طاقتور سبب ہے۔ یہ صورتِ حال اس تاثر کو مضبوط کرتی ہے کہ ریاست حالات کو شعور اور مکالمے کے دائرے میں لانے کے بجائے طاقت اور خوف کے ذریعے قابو میں رکھنا چاہتی ہے۔
سوشل میڈیا پروپیگنڈا اور مصنوعی بیانیہ
ریاستی پالیسی کا ایک اہم پہلو سوشل میڈیا کے ذریعے بیانیہ سازی بھی ہے۔ بلوچستان میں درجنوں جعلی اکاؤنٹس اور نام نہاد ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے ریاستی مؤقف کو پھیلایا جا رہا ہے۔ ہر لاپتہ شخص کو دہشت گرد یا سہولت کار ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، حتیٰ کہ جب وہی شخص چند دن بعد رہا ہو جائے۔ صوبائی خزانے سے چلنے والے بعض ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارمز ایسے افراد کو نمائندگی دیتے ہیں جو نہ سماجی وزن رکھتے ہیں اور نہ ہی زمینی حقائق سے واقف ہیں، مگر طاقتور حلقوں کے نزدیک یہی “اصل بلوچستان” ہے۔ یہ بیانیہ نہ صرف کمزور ہے بلکہ خود ریاست کے لیے بھی غیر مؤثر ثابت ہوا ہے۔ بُراق ڈیجیٹل اور نظر بان جیسے چینل اس کی واضح مثالیں ہیں۔
میڈیا کنٹرول اور بین الاقوامی توجہ
بلوچستان میں شورش کے دوران قومی میڈیا کی خاموشی کی ایک بڑی وجہ ریاستی کنٹرول رہا ہے۔ یہاں تک کہ مسلح تنظیموں سے متعلق خبروں پر عدالتی پابندیاں بھی عائد کی گئیں۔ تاہم جب شورش ختم ہونے کے بجائے خودکش حملوں اور شہری سطح کے حملوں تک پھیل گئی تو بین الاقوامی میڈیا نے خود اس جانب توجہ دینا شروع کر دی۔ یوں جس بین الاقوامی پہلو سے بچنے کی کوشش کی جا رہی تھی وہ خود بخود نمایاں ہو گیا۔
تعلیم یافتہ قیادت اور فکری بنیاد
ریاست کا یہ مفروضہ بھی غلط ثابت ہوا کہ بلوچ تحریک غیر تعلیم یافتہ طبقات کی پیداوار ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ابتدا سے ہی تعلیم یافتہ طبقہ اس تحریک کا اہم محرک رہا ہے۔ اس وقت مسلح تحریک کی قیادت کرنے والی تنظیموں کے سربراہان اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں جن میں ایک ڈاکٹر بھی شامل ہے۔ بلوچ تحریک نے نظریاتی اور فکری لٹریچر کو ہمیشہ مرکزی حیثیت دی ہے، جس کے باعث پڑھے لکھے نوجوانوں کے لیے اس تحریک سے وابستگی ایک منطقی عمل بنتی گئی۔
خواتین کی شمولیت: جبر کا منطقی ردِعمل
خواتین کی براہِ راست مسلح جدوجہد میں شمولیت کو محض ایک عسکری پیش رفت کے طور پر دیکھنا ایک سنگین تجزیاتی غلطی ہوگی۔ گھروں میں گھس کر نوجوانوں کو ماؤں اور بہنوں کے سامنے لاپتہ کرنا، بعد ازاں ان کی لاشیں ملنا، اور مردوں خصوصاً قوم پرست جماعتوں کی پُرامن سیاسی سرگرمیوں پر بلاجواز پابندیاں یہ تمام عوامل خواتین کو براہِ راست متاثر کرتے رہے ہیں۔ یوں خواتین کی شمولیت دراصل ریاستی جبر کا ایک منطقی اور الم ناک ردِعمل بن کر سامنے آئی ہے۔
ممکنہ حل: طاقت نہیں، ثالثی
موجودہ حالات میں اس شورش کے حل کا کوئی آسان یا فوری راستہ نظر نہیں آتا۔ مسلح تنظیمیں ریاست کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کا رسک لینے کو تیار نہیں کیونکہ اعتماد مکمل طور پر ٹوٹ چکا ہے۔ ایسے میں بین الاقوامی ثالثی یا کسی غیر جانب دار ادارے کی مداخلت ہی شاید ایک ایسے مکالمے کی بنیاد رکھ سکے جو طاقت کے بجائے سیاسی حل کی طرف لے جائے۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































