بلوچستان و کراچی: طالب علم سمیت دو افراد جبری لاپتہ، یوسف قلندرانی رہا

89

بلوچستان اور کراچی میں جبری گمشدگیوں کے واقعات کا سلسلہ جاری ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق کراچی سے ایک کم عمر طالب علم اور حب چوکی سے پنجگور کے ایک نوجوان کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا ہے، جبکہ جمعیت علمائے اسلام کے رہنماء سردار علی محمد خان قلندرانی کے فرزند یوسف علی قلندرانی کی رہائی عمل میں آئی ہے۔

ذرائع کے مطابق 17 سالہ طالب علم امیر ولد جاسم ولی داد، ساکن بلوچ آباد مند، ضلع کیچ، کو 19 دسمبر 2025 کو شام تقریباً 6 بجے کراچی کے علاقے لیاری، آٹھ چوک سے ایم آئی اور سی ٹی ڈی کے اہلکار حراست میں لے کر اپنے ساتھ لے گئے۔ اہلِ خانہ کے مطابق واقعے کے بعد سے امیر کے بارے میں کوئی اطلاع فراہم نہیں کی گئی، جس پر خاندان شدید تشویش میں مبتلا ہے۔

ادھر حب چوکی کے علاقے الہ آباد ٹاؤن سے پنجگور کے رہائشی نوجوان کلیم اللہ ولد حاجی اسد اللہ کو رات تقریباً دو بجے گھر سے نامعلوم افراد نے اٹھا کر لاپتہ کر دیا۔ خاندانی ذرائع کے مطابق کلیم اللہ کا تعلق خدابادان، پنجگور سے ہیں اور واقعے کے بعد سے ان کے بارے میں کوئی معلومات سامنے نہیں آسکیں۔ اہلِ خانہ نے مختلف مقامات پر تلاش کے باوجود کسی پیش رفت نہ ہونے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اہلِ خانہ نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ کلیم اللہ اور امیر کی فوری بازیابی کو یقینی بنایا جائے اور ان کی جبری گمشدگیوں کے حوالے سے شفاف تحقیقات کی جائیں۔ خاندانوں نے عوام، سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ ان واقعات کے خلاف آواز بلند کریں۔

دوسری جانب جمعیت علمائے اسلام کے رہنماء سردار علی محمد خان قلندرانی کے فرزند یوسف علی قلندرانی کی رہائی عمل میں آگئی ہے۔

یوسف علی قلندرانی کو گزشتہ سال 17 اگست کو کراچی سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا، بعد ازاں انہیں 3 ایم پی او کے تحت خضدار جیل میں رکھا گیا۔ آج قریبی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ وہ رہا ہو کر بحفاظت گھر پہنچ گئے ہیں۔

انسانی حقوق کے حلقوں نے جبری گمشدگیوں کے جاری واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ لاپتہ افراد کو فوری طور پر منظرِ عام پر لایا جائے۔