بلوچستان میں ڈسپیریٹی ریڈکشن الاؤنس کے مطالبے پر سرکاری ملازمین کے احتجاجی دھرنے شدت اختیار کر گئے ہیں، جس کے باعث مختلف علاقوں میں مظاہرین نے قومی شاہراہیں بند کردی ہیں جبکہ صوبائی حکومت نے مظاہرین کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھا۔
کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف اضلاع میں درجنوں سرکاری محکموں سے تعلق رکھنے والے ملازمین گزشتہ سات ماہ سے ڈی آر اے کے حصول کے لیے سراپا احتجاج ہیں۔
بلوچستان گرینڈ الائنس کے پلیٹ فارم سے متحد ہونے والے ملازمین کا مطالبہ ہے کہ انہیں 30 فیصد ڈی آر اے دیا جائے، جیسا کہ دیگر صوبوں اور وفاقی حکومت میں نافذ العمل ہے۔
بلوچستان گرینڈ الائنس کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ گورنر ہاؤس، وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ، سول سیکریٹریٹ، اسمبلی سیکریٹریٹ اور ہائی کورٹ سمیت بعض اداروں میں ایک ہی گریڈ کے ملازمین کو زیادہ تنخواہیں دی جارہی ہیں، جبکہ دیگر محکموں میں اسی گریڈ کے ملازمین کم اجرت پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس واضح تفاوت کے خاتمے کے لیے ڈی آر اے ناگزیر ہے اور حکومت کی جانب سے قائم کی گئی کمیٹی بھی اس کی سفارش کر چکی ہے، تاہم وزیراعلیٰ ان سفارشات پر تاحال عمل درآمد نہیں کررہے۔
احتجاجی تحریک کے آغاز کے بعد حکومت اور ملازمین کے درمیان متعدد بار مذاکرات ہوئے، مگر اب تک کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچا جاسکا۔
دوسری جانب ملازمین کا الزام ہے کہ حکومت نے ان کے مطالبات تسلیم کرنے کے بجائے انتقامی کارروائیاں شروع کردی ہیں مختلف شہروں میں ملازمین کے رہنماؤں کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں، اب تک 50 سے زائد ملازمین کو گرفتار کیا جا چکا ہے جبکہ 15 ملازمین کوئٹہ جیل میں قید ہیں۔
احتجاج کے سلسلے میں سرکاری ملازمین نے قلم چھوڑ ہڑتال کے بعد اہم شاہراہوں کی بندش شروع کر دی ہے۔
پیر کے روز خضدار، لسبیلہ، قلعہ سیف اللہ، نصیرآباد، نوشکی اور پنجگور میں کوئٹہ کو کراچی، تفتان، گوادر اور سندھ سے ملانے والی مرکزی شاہراہیں بند رہیں، جس کے باعث گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں اور شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
صوبائی حکومت کے کریک ڈاؤن کے فیصلے کے بعد پولیس نے مختلف مقامات پر کارروائیاں کرتے ہوئے متعدد مظاہرین کو حراست میں لے لیا ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل بھی حکومت نے احتجاج میں شرکت کے الزام میں مختلف کالجوں کے 38 اسسٹنٹ پروفیسرز اور لیکچررز کو تین ماہ کے لیے معطل کر دیا تھا، صوبائی حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام لازمی تعلیمی سروسز ایکٹ کی خلاف ورزی پر کیا گیا کیونکہ گرینڈ الائنس کی تحریک کے بعد تعلیمی اداروں میں احتجاج پر چھ ماہ کے لیے پابندی عائد کی گئی تھی۔
ادھر بلوچستان گرینڈ الائنس نے احتجاج کو مرحلہ وار آگے بڑھانے کا اعلامیہ جاری کیا ہے، اعلان کے مطابق پہلے مرحلے میں تین روزہ تالہ بندی، دوسرے مرحلے میں 14 جنوری تک مختلف علاقوں میں شاہراہوں کی بندش، 15 جنوری کو بلوچستان بھر میں مکمل لاک ڈاؤن اور تمام سرکاری دفاتر کی بندش جبکہ 20 جنوری کو کوئٹہ میں ریڈ زون کے قریب غیر معینہ مدت کے لیے دھرنا دیا جائے گا۔
ملازمین نے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت نے کارروائیاں بند نہ کیں تو جیل بھرو تحریک شروع کی جائے گی۔
دوسری جانب صوبائی وزیر خزانہ شعیب نوشیروانی کا کہنا ہے کہ حکومت سرکاری ملازمین کی مشکلات سے آگاہ ہے اور انہیں مختلف سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
ان کے مطابق صوبے میں ساڑھے تین لاکھ سے زائد سرکاری ملازمین کو ڈی آر اے دینے سے 16 سے 20 ارب روپے تک کا اضافی مالی بوجھ پڑ سکتا ہے اسی لیے اس معاملے پر مشاورت جاری ہے اور کوئی فیصلہ عجلت میں نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے ملازمین سے اپیل کی ہے کہ وہ حکومت کے فیصلے تک کسی انتہائی اقدام سے گریز کریں۔
احتجاجی ملازمین کا مؤقف ہے کہ اگرچہ اس الاؤنس سے مجموعی طور پر تقریباً 17 ارب روپے کا بوجھ پڑے گا، تاہم ہر ملازم کی تنخواہ میں یومیہ ڈیڑھ سو روپے سے بھی کم اور ماہانہ تقریباً چار سے ساڑھے چار ہزار روپے کا اضافہ ہوگا، جو مہنگائی کے موجودہ دور میں ان کے بنیادی حقوق میں شامل ہے۔
مزید برآں بلوچستان کی مختلف سیاسی جماعتوں نے بھی سرکاری ملازمین کے مطالبات کی حمایت کرتے ہوئے حکومت سے مسئلے کے فوری اور منصفانہ حل کا مطالبہ کیا ہے۔

















































