بلوچستان کے مختلف اضلاع میں حالیہ دنوں پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری گمشدگیوں اور بازیابی کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ تربت اور خاران سے 5 نوجوانوں کی جبری گمشدگی کی اطلاعات ہیں، جبکہ کوئٹہ، گوادر اور تمپ سے 5 افراد بازیاب ہو کر گھروں کو پہنچ گئے۔
ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت میں 15 جنوری کو ہسپتال کے سامنے دن دہاڑے پاکستانی فورسز اور نے ایک نوجوان کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔ لاپتہ نوجوان کی شناخت مہران بلوچ ولد بیگ محمد کے نام سے ہوئی ہے، جو بل نگور کا رہائشی اور نرسنگ کا طالب علم ہے۔
خاران شہر میں پاکستانی فورسز کی جانب سے وسیع پیمانے پر سرچ آپریشن اور محاصرے کی اطلاعات ہیں۔ ڈیری فارم محلہ بلوچ آباد میں چھاپے کے دوران اویس احمد قمبرانی ولد محبوب قمبرانی کو گاڑی سمیت حراست میں لے جایا گیا، تاہم اہلِ خانہ کو تاحال گرفتاری یا منتقلی سے متعلق کوئی باضابطہ اطلاع نہیں دی گئی۔
مزید برآں، خاران شہر اور گرد و نواح میں جاری آپریشنز کے دوران مخفر عابد سیاپاد، منیب سیاپاد اور احمد سیاپاد نامی تین نوجوانوں کی جبری گمشدگی کی اطلاعات ہیں۔
دوسری جانب کچھ علاقوں سے جبری لاپتہ افراد کی بازیابی کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں۔ ضلع کیچ کی تحصیل تمپ کے علاقے ہوت آباد اور بالگتر سے 7 جنوری کو لاپتہ کیے گئے صغیر ولد الہٰی بخش، سلام ولد خالد اور فضائل ولد محمد رفیق بازیاب ہو کر گھروں کو پہنچ گئے۔
اسی طرح ضلع گوادر کی تحصیل جیونی پانوان سے 13 جنوری کو لاپتہ ہونے والے منیر ولد جان محمد اور دشت، مستونگ سے 26 دسمبر 2025 کو جبری گمشدگی کا نشانہ بننے والے امجد علی ولد محمد سلطان 15 جنوری کو بالترتیب گوادر اور کوئٹہ سے بازیاب ہو گئے۔



















































