بلوچستان میں برفباری سے سڑکیں بند، تیس سالہ سردی کا ریکارڈ ٹوٹ گیا

21

بلوچستان کے مختلف اضلاع میں گزشتہ دنوں ہونے والی برفباری کے باعث سردی کی شدت میں غیرمعمولی اضافہ ہوگیا ہے۔

کوئٹہ اور بلوچستان کے بیشتر علاقے اس وقت شدید سردی کی لپیٹ میں ہیں، جہاں درجہ حرارت نقطۂ انجماد سے نیچے جا پہنچا ہے، گزشتہ روز بارش اور برفباری کے بعد شام سے یخ بستہ ہواؤں کا سلسلہ شروع ہوا جو تاحال جاری ہے۔

شدید سردی کے باعث سڑکوں اور کھلے مقامات پر پانی جم گیا ہے، جبکہ گھروں کی ٹینکیوں اور نلکوں میں بھی پانی منجمد ہوچکا ہے، جس کے باعث شہریوں کو پانی کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

ماہرین کے مطابق بلوچستان میں موجودہ سردی نے گزشتہ 30 سال کا ریکارڈ توڑ دیا ہے، گزشتہ رات درجہ حرارت منفی 13 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا جبکہ دن کے اوقات میں درجہ حرارت منفی 9 اور محسوس ہونے والی سردی منفی 12 ڈگری تک ریکارڈ کی گئی۔

کوئٹہ، قلات، مستونگ، سوراب، زیارت، کان مہترزئی، توبہ کاکڑی اور توبہ اچکزئی سمیت وسطی اور شمالی بلوچستان کے کئی علاقے انتہائی سرد علاقوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔

تیز اور یخ بستہ سائبیرین ہواؤں کے باعث ان علاقوں میں معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہوچکے ہیں، ایندھن کے متبادل ذرائع کی قلت کے ساتھ ساتھ گیس اور بجلی کی بندش نے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا ہے۔

بلوچستان کے بالائی شمالی علاقوں میں شدید برفباری کے باعث زیارت جانے والے سیاحوں کی درجنوں گاڑیاں کوئٹہ، زیارت شاہراہ پر پھنس گئیں، چمن اور اس کے گردونواح میں بھی متعدد گاڑیاں برف میں پھنسنے کی اطلاعات ہیں۔

اطلاعات کے مطابق این-50 شاہراہ پر کان مہترزئی، خانوزئی اور مسلم باغ سمیت مختلف مقامات پر ٹریفک شدید متاثر ہوئی ہے، این-50 پر پیش آنے والے 9 مختلف ٹریفک حادثات میں 27 افراد زخمی ہوئے۔

مزید برآں کوژک ٹاپ کے مقام پر شدید سرد ہوائیں چلنے سے این-25 چمن، کوئٹہ، کراچی شاہراہ پر درجہ حرارت منفی 12 تک گر گیا، جبکہ شیلاباغ کے قریب پھسلن کے باعث متعدد گاڑیاں آپس میں ٹکرا گئیں، جس کے نتیجے میں 2 افراد جانبحق اور 7 زخمی ہوگئے ہیں۔