بلوچستان میں اجتماعی سزا اور صنفی بنیاد پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں – بی وائی سی رپورٹ شائع

1
بلوچ یکجہتی کمیٹی نے ایک موضوعاتی رپورٹ شائع کی ہے جس کا عنوان ہے “2025 میں بلوچ خواتین کی جبری گمشدگیاں: بلوچستان میں اجتماعی سزا اور صنفی بنیاد پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں” یہ رپورٹ بلوچستان میں خواتین اور بچیوں کو براہِ راست نشانہ بنائے جانے کے خطرناک رجحان کو بے نقاب کرتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق سال 2025 کے دوران بلوچستان کے مختلف اضلاع میں کم از کم 12 بلوچ خواتین اور بچیوں کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا۔ یہ واقعات کسی انفرادی یا اتفاقی نوعیت کے نہیں بلکہ ایک منظم ظلم کی نشاندہی کرتے ہیں، جس میں جبری گمشدگی کو بطور اجتماعی سزا استعمال کیا جا رہا ہے۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ متاثرہ خواتین میں طالبات، لیڈی ہیلتھ ورکرز، نابالغ لڑکیاں اور ایک آٹھ ماہ کی حاملہ خاتون بھی شامل ہیں۔ کئی واقعات میں ایک ہی کارروائی کے دوران ایک سے زائد خاندان کے افراد کو نشانہ بنایا گیا، جس سے پورے خاندان اور برادری کو شدید ذہنی، سماجی اور معاشی نقصان پہنچا۔
تمام دستاویزی کیسز میں خواتین کو بغیر وارنٹ، عدالتی نگرانی اور قانونی جواز کے حراست میں لیا گیا، جبکہ ریاستی اداروں نے بارہا ان کی گرفتاری سے انکار کیا یا ان کے ٹھکانے بتانے سے گریز کیا۔ بعض خواتین کو بعد ازاں رہا تو کیا گیا، مگر کسی عدالتی کارروائی، الزام یا سرکاری وضاحت کے بغیر، جو بین الاقوامی قانون کے تحت مسلسل انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
رپورٹ میں ایک نہایت سنگین کیس کی بھی نشاندہی کی گئی ہے جس میں پنجگور کی رہائشی نازیہ شفیع کو جبری گمشدگی کے بعد شدید تشدد اور جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا، اور وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہو گئیں۔ یہ واقعہ ماورائے عدالت قتل کے زمرے میں آتا ہے اور انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزی کی مثال ہے۔
بی وائی سی کے مطابق خواتین کی جبری گمشدگیوں کے ساتھ ساتھ گھروں پر چھاپے، اہلِ خانہ کو دھمکیاں، نقل و حرکت پر پابندیاں، املاک کو نقصان اور عوامی مقامات سے اغوا جیسے اقدامات بھی کیے گئے، جن کا مقصد خوف و ہراس پھیلانا اور آواز اٹھانے والوں کو خاموش کرانا ہے۔
رپورٹ اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ 2025 میں بلوچ خواتین کی جبری گمشدگیاں ریاستی جبر اور اجتماعی سزا کی ایک منظم پالیسی کا حصہ ہیں، بین الاقوامی انسانی حقوق معاہدوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔
بی وائی سی مطالبہ کرتی ہے کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے
تمام لاپتہ خواتین کو بلا مشروط رہا کیا جائے
تمام کیسز کو سرکاری طور پر تسلیم کر کے متاثرین کے ٹھکانے ظاہر کیے جائیں
آزاد، شفاف اور غیرجانبدار تحقیقات کی جائیں
ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے متاثرہ خاندانوں کو نفسیاتی، طبی اور قانونی معاونت فراہم کی جائے
بی وائی سی اقوامِ متحدہ اور عالمی انسانی حقوق اداروں سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ بلوچستان میں بلوچ خواتین کی صورتحال کا فوری نوٹس لیں اور ان سنگین خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔