بلوچستان حکومت نے احتجاجی مظاہروں میں شرکت کرنے والے 38 اسسٹنٹ پروفیسرز و لیکچررز معطل کردیے

39

بلوچستان حکومت نے سرکاری ملازمین کے خلاف کارروائی کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے ہڑتال اور احتجاج میں شرکت کرنے پر محکمہ کالجز کے 38 اسسٹنٹ پروفیسرز اور لیکچررز کو تین ماہ کیلئے معطل کر دیا ہے، جن میں چھ خواتین اساتذہ بھی شامل ہیں۔

چیف سیکریٹری بلوچستان کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق ہڑتال میں شرکت، دفاتر کی تالہ بندی اور سرکاری امور میں رکاوٹ ڈالنے پر بیڈا ایکٹ کے تحت یہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔ 

نوٹیفکیشن میں ان اساتذہ پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے سرکاری قوانین کی خلاف ورزی کی۔

حکام کے مطابق معطل ہونے والوں میں بلوچستان گرینڈ الائنس کے چیئرمین عبدالقدوس کاکڑ بھی شامل ہیں، واضح رہے کہ بلوچستان گرینڈ الائنس اپنے مختلف مطالبات کے حق میں گزشتہ کئی دنوں سے احتجاجی تحریک چلارہی ہے۔

دوسری جانب ملازمین تنظیموں نے حکومتی فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے احتجاج کا حق سلب کرنے کے مترادف قرار دیا ہے، جبکہ حکومت کا مؤقف ہے کہ نظم و ضبط کی خلاف ورزی برداشت نہیں کی جائے گی۔