بلوچستان اور ڈیرہ غازی خان: پاکستانی فورسز کے ہاتھوں مزید 8 بلوچ جبری لاپتہ

1

بلوچستان اور ملحقہ علاقوں میں جبری گمشدگیوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے، جہاں مختلف مقامات سے مزید بلوچ نوجوانوں کو پاکستانی فورسز نے حراست میں لے کر جبری طور پر لاپتہ کر دیا ہے۔

چند ہفتوں کے دوران کم از کم 8 مزید بلوچ افراد کی جبری گمشدگی کے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق 8 جنوری کو پاکستانی فورسز نے ضلع کیچ، تحصیل مند سے عبداللہ ولد اقبال کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔

اسی طرح 29 دسمبر 2025 کو کراچی کے علاقے گولیمار سے 24 سالہ طالب علم حمدان ولد محمد علی کو صبح 10 بجے سی ٹی ڈی اہلکاروں نے حراست میں لیا۔

مزید برآں 2 نومبر 2025 کو پنجاب کے شہر ڈیرہ غازی خان کے علاقے بھٹہ کالونی سے تین بلوچ نوجوان — داود بلوچ، عثمان بلوچ اور حکیم مجید بلوچ — کو علی الصبح ایم آئی اور سی ٹی ڈی اہلکاروں نے حراست میں لے کر لاپتہ کر دیا۔

اسی طرح 20 نومبر 2025 کو کوئٹہ کے علاقے لک پاس سے 29 سالہ مذہبی استاد زبیر ولد مراد خان کو پاکستانی فورسز نے رات گئے حراست میں لیا۔

جبکہ 26 دسمبر 2025 کو ضلع بارکھان کے علاقے رکھنی میں سیشن کورٹ کے سامنے سے 28 سالہ مزدور محمد اقبال مری کو ملٹری انٹیلیجنس کے اہلکاروں نے اغوا کر لیا۔

علاوہ ازیں 11 دسمبر 2025 کو ضلع مستونگ میں اپنے گھر سے 21 سالہ مویشی پال سعید احمد ولد محمد اکبر کو ایف سی اور سی ٹی ڈی اہلکاروں نے حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔

دی بلوچستان پوسٹ کو موصول ہونے والی ایک اور اطلاع کے مطابق 2 جنوری 2025 کو گوادر سے 17 سالہ ایف ایس سی کے طالب علم جمال مراد ولد مراد جان کو شام 4:30 بجے سی ٹی ڈی اور ایم آئی اہلکاروں نے حراست میں لے کر جبری طور پر لاپتہ کر دیا۔

بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف کام کرنے والی تنظیموں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے ان واقعات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچ نوجوانوں کو بغیر کسی قانونی جواز، وارنٹ یا عدالت میں پیش کیے لاپتہ کرنا انسانی حقوق کے قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔

واضح رہے کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے کیسز روزانہ کی بنیاد پر رپورٹ ہو رہے ہیں، تاہم بعض لواحقین ریاستی اداروں اور فورسز کے خوف کے باعث اپنے پیاروں کی جبری گمشدگی کے کیسز بروقت رپورٹ نہیں کرتے۔

لواحقین کا کہنا ہے کہ انہیں خاموش رہنے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں، لیکن ان کی خاموشی کے باوجود بھی ریاستی ادارے ان کے پیاروں کو منظرِ عام پر نہیں لاتے