ایمان مزاری کو اسلام آباد سرینہ چوک انڈر پاس کے قریب گاڑی رکوا کر گرفتار کیا گیا۔ وہ اور ہادی علی چٹھہ اسلام آباد ہائی کورٹ بار سے ڈسٹرکٹ کورٹ جارہے تھے۔
دونوں وکلاء اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی وین میں تھے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ بار کے صدر واجد گیلانی اور منظور ججہ بھی ان کے ہمراہ تھے۔
یاد رہے کہ متنازع ٹوئٹ کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے جاری تحریری فیصلے میں ٹرائل کورٹ کا آرڈر کالعدم قرار دیا گیا ہے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو موجودہ کیس میں گرفتار نہ کیا جائے۔
فیصلے کے مطابق ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو گواہوں پر جرح کیلئے 4 دن کا وقت دیا جاتا ہے۔ اگر ٹرائل کورٹ کے سامنے پیش نہ ہوئے تو یہ آرڈر ختم تصور ہوگا۔
خیال رہے کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف آواز بلند کرنے میں پیش پیش رہے ہیں، انہوں نے بلوچستان سے لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں کے مقدمات کی بھی پیروی کی ہے۔
ایمان مزاری کے خلاف جاری ٹرائل پر انسانی حقوق کی تنظیموں کے ساتھ ساتھ بلوچ سیاسی حلقوں اور بلوچستان سے لاپتہ افراد کے لواحقین نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ان حلقوں کا کہنا ہے کہ ایمان مزاری کو بلوچستان میں جاری جبری گمشدگیوں کے خلاف آواز اٹھانے کی پاداش میں نشانہ بنایا جارہا ہے۔
بلوچ لواحقین نے کہا کہ پاکستان میں جو کوئی بھی بلوچ حقوق، اقلیتوں کے حقوق یا آئین و قانون کی حکمرانی کی بات کرتا ہے اسے غدار قرار دے دیا جاتا ہے۔
ان کے مطابق یہ کوئی نئی بات نہیں بلکہ پاکستان کی طاقتور قوتوں کی ایک طویل تاریخ ہے کہ وہ ایماندار اور بہادر لوگوں کو غدار قرار دیتی آئی ہیں، آج اسی منطق کے تحت ملک کی ایک بڑی آبادی کو چند طاقتور افراد کی نظر میں غدار ٹھہرایا جارہا ہے۔



















































