ایران کے دارالحکومت تہران اور دیگر شہروں میں ہزاروں افراد احتجاجی مظاہروں میں شامل ہوئے ہیں اور ان مظاہرے کو حالیہ برسوں میں ایرانی حکام کے خلاف سب سے بڑے عوامی مظاہرے قرار دیے جا رہے ہیں۔
جمعرات کی شام تہران اور ایران کے دوسرے بڑے شہر مشہد میں ہونے والے ان مظاہروں میں شامل افراد کو سکیورٹی فورسز نے منتشر نہیں کیا۔
ایران میں جاری مظاہروں کی وجہ سے مُلک کے بیشتر علاقوں میں انٹرنیٹ کی بندش کی بھی اطلاعات ہیں جس کی تصدیق ایک مانیٹرنگ گروپ نے بھی کی ہے۔
ویڈیوز میں مظاہرین کو ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے خلاف نعرے لگاتے اور سابق شاہ کے جلاوطن بیٹے رضا پہلوی کی واپسی کا مطالبہ کرتے سُنا جا سکتا ہے۔ رضا پہلوی نے گذشتہ روز اپنے حامیوں سے سڑکوں پر آنے اور امریکہ سمیت یورپی ممالک سے مظاہرین کی مدد کی اپیل کی تھی۔
یہ مظاہرے مسلسل 13 روز سے جاری ہیں، جن کی ابتدا ایرانی کرنسی کی قدر میں بے تحاشہ کمی اور مہنگائی کے بعد ہوئی۔ بی بی سی فارسی کے مطابق مظاہروں کا سلسلہ ایران کے تمام 31 صوبوں میں 100 سے زائد شہروں اور قصبوں تک پھیل چکا ہے۔
امریکہ میں قائم ہیومن رائٹس ایکٹوسٹ نیوز ایجنسی (HRANA) کے مطابق اب تک کم از کم 34 مظاہرین، جن میں پانچ بچے شامل ہیں، اور آٹھ سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 2270 مظاہرین کو گرفتار کیا گیا ہے۔
ناروے میں قائم ایران ہیومن رائٹس نے کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں کم از کم 45 مظاہرین، جن میں آٹھ بچے بھی شامل ہیں، ہلاک ہوئے ہیں۔
بی بی سی فارسی نے 22 افراد کی ہلاکت اور شناخت کی تصدیق کی ہے جبکہ ایرانی حکام نے چھ سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کی اطلاع دی ہے۔
ایران میں ہونے والے مظاہروں کے حوالے سے سامنے آنے والی ایک ویڈیو میں ایک شہری کو یہ کہتے ہوئے سُنا جا سکتا ہے کہ اصفہان میں ایرانی براڈکاسٹنگ کارپوریشن کی عمارت کو آگ لگا دی گئی ہے۔
بی بی سی کے فیکٹ چیک ڈیپارٹمنٹ کی تحقیقات کے مطابق یہ واقعہ ان عمارتوں میں سے ایک میں پیش آیا ہے جو بستان سعیدی بلیوارڈ پر واقع ’میٹل برج‘ کے قریب موجود ہیں۔
یہ واقعہ ایران میں جاری احتجاجی تحریک کے دوران سامنے آیا ہے، جہاں مظاہرین مختلف شہروں میں سرکاری تنصیبات کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
ایران میں احتجاج کے دوران گاڑیاں اور عمارتیں نذرِ آتش
سوشل میڈیا پر نشر ہونے والی ویڈیوز اور تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مختلف شہروں میں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے سرکاری اہلکار فائرنگ کر رہے ہیں جبکہ مظاہرین رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے خلاف نعرے بلند کرتے اور ایران کا سرکاری پرچم مختلف مقامات سے اُتارتے نظر آئے۔
آٹھ جنوری کو یزد سے سامنے آنے والی ایک ویڈیو میں سڑک کے کنارے کئی جلی ہوئی گاڑیاں دیکھی جا سکتی ہیں۔ ویڈیو میں موجود آواز کے مطابق یہ گاڑیاں حکومتی فورسز اور پولیس کی تھیں اور بظاہر جمعرات کے احتجاج کے دوران انھیں آگ لگائی گئی۔
بی بی سی فارسی کے مطابق جمعرات کو سامنے آنے والی متعدد تصاویر میں پولیس کی بیرکوں اور گاڑیوں کو آگ لگائے جانے کے مناظر دیکھے گئے، جبکہ مختلف مظاہروں کے دوران بعض مساجد کو بھی نذرِ آتش کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔
گیلان صوبے کے ساحلی شہر بندر انزلی سے نشر ہونے والی ویڈیوز میں مظاہرین کو سڑکوں پر موجود دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ شہر حالیہ دنوں میں احتجاجی تحریک کا مرکز بنا ہوا ہے۔
مقامی رہائشیوں نے بتایا ہے کہ گزشتہ چند دنوں سے شہر میں ضروری اشیا جیسے تیل اور چاول کی شدید قلت ہے۔ ساتھ ہی سکیورٹی اہلکاروں نے احتجاجی مظاہروں میں شامل افراد کو منتشر کرنے کی بھی کوشش کی ہے۔
دوسری جانب مارکزی صوبے کے شہر شازند سے جمعرات کو سامنے آنے والی تصاویر میں مظاہرین کو گورنر آفس کی عمارت کے سامنے جمع ہوتے اور نعرے لگاتے دیکھا گیا۔ تاہم ایک گھنٹے بعد گورنر کمپاؤنڈ کے اندر آگ کے شعلے بلند ہوتے نظر آئے۔
بیلجیم کے وزیرِاعظم بارٹ دے وور نے ایران میں جاری مظاہروں کی حمایت کرتے ہوئے فارسی زبان میں ایکس پر جمعرات کی شام ایک بیان جاری کیا۔
انھوں نے لکھا ’بہادر ایرانی برسوں کے جبر اور معاشی مشکلات کے بعد آزادی کے لیے کھڑے ہوئے ہیں۔ وہ ہماری مکمل حمایت کے مستحق ہیں۔ ان کی آواز کو تشدد کے ذریعے دبانا ناقابلِ قبول ہے۔‘
امریکہ کے سابق وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو، جو ڈونلڈ ٹرمپ کی پہلی انتظامیہ میں خدمات انجام دے چکے ہیں، نے جمعرات کو فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ ان کا ملک ایرانی عوام کے مظاہروں کی ہر ممکن طریقے سے حمایت کرے۔
پومپیو نے مزید کہا کہ ایران کی پولیس فورسز کو ایک مشکل فیصلہ کرنا ہوگا اور یہ طے کرنا ہوگا کہ وہ حکومت کا ساتھ دیں یا عوام کا۔
انھوں نے اپنی رائے دیتے ہوئے کہا کہ ’مظاہرین کی مختلف شہروں میں احتجاج کی وسعت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ’یہ شاید وہ موقع اور لمحہ ہے جس کا ایرانی عوام انتظار کر رہے تھے بالکل ویسا ہی جیسا وینیزویلا کی عوام۔‘



















































