ایران میں احتجاجی مظاہرے، ’مرنے والوں کی تعداد 500 سے بڑھ گئی‘

12

ماہرین اور عینی شاہدین کے مطابق ایران میں جاری حکومت مخالف مظاہرے ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں جو ملک میں 1979 کے انقلاب کے بعد ایسا پہلا موقع ہے۔

ایک ایسے وقت میں جب متعدد شہروں میں ایرانی عوام کی بڑی تعداد کو حکومت مخالف مظاہروں میں شرکت کرتے دیکھا گیا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر ایرانی حکام نے مظاہرین سے سختی سے نمٹنے کی کوشش کی تو ’امریکہ مدد کے لیے تیار ہے۔‘

اس کے جواب میں ایرانی حکام نے کہا ہے کہ وہ بھی خطے میں امریکی مفادات اور اتحادیوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ایک گروپ نے کہا ہے کہ ایران میں شورش کے باعث مرنے والوں کی تعداد 500 سے بڑھ گئی ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس ان ایران (ھرانا) جو ایران کے اندر اور باہر کارکن رکھتا ہے، نے 490 مظاہرین اور 48 سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے جبکہ ایک ہزار 600 سے زائد افراد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔

روئٹرز کا کہنا ہے کہ وہ ان اعداد و شمار کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں کر سکا ہے۔

وسعت

ماہرین کا ماننا ہے کہ ان مظاہروں کا پھیلاؤ غیر معمولی ہے۔ علی خرسندفر کا کہنا ہے کہ ’مظاہرے چھوٹے شہروں تک پھیل چکے ہیں جن کے نام بھی لوگوں نے آج سے پہلے نہیں سنے ہوں گے۔‘

ایسا نہیں کہ ایران میں اس سے پہلے حکومت مخالف مظاہرے نہیں ہوئے۔ 2009 میں الیکشن فراڈ کے خلاف احتجاج ہوا۔ تاہم یہ بڑے شہروں تک محدود رہا تھا۔ اس کے علاوہ 2017 اور 2019 میں ہونے والے مظاہرے ملک کے ایسے علاقوں تک محدود رہے جو غریب تصور کیے جاتے ہیں۔

شاید حالیہ مظاہروں کی مماثلت 2022 میں ہونے والے مظاہروں سے ہو سکتی ہے جب 22 سالہ مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد حکومت کے خلاف احتجاج شروع ہوا تھا۔

تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ مظاہرے زیادہ بڑی سطح پر ہیں اور تسلسل کے ساتھ ان کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

2022 کی طرح ہی حالیہ مظاہروں کی جڑ بھی ایک ایسی مخصوص شکایت میں ہے جو نظام کی تبدیلی کے مطالبوں میں بدل چکی ہے۔

علی کا کہنا ہے کہ 2022 کی تحریک خواتین کے معاملے سے شروع ہوئی لیکن اس میں دیگر مسائل بھی اجاگر ہوئے۔ 2025 دسمبر میں جو مسائل پہلے سامنے آئے وہ معاشی نوعیت کے تھے لیکن بہت جلد ان دونوں مظاہروں کے مرکزی پیغام میں مماثلت دیکھنے کو ملی۔

دسمبر کے اختتام پر تہران میں تاجر اس وقت ہڑتال پر چلے گئے تھے جب امریکی ڈالر کے مقابلے میں ایرانی ریال کی قیمت میں تیزی دے تبدیلی آئی۔

پھر احتجاج ملک کے مغربی علاقوں میں پھیلا اور دسمبر میں ہی ہزاروں کی جگہ لاکھوں لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔ ان میں ملک کی وہ مڈل کلاس بھی شامل تھی جو افراط زر اور معاشی بحران کا سامنا کر رہی ہے۔

تاہم مظاہروں کے دوران اب ایک نعرہ جو اکثر سننے کو ملتا ہے وہ ایرانی رہبر اعلی آیت اللہ خامنہ ای کو ہٹانے اور ان کی سربراہی میں چلنے والی حکومت کے خاتمے سے متعلق ہیں۔

ٹرمپ کی دھمکی

حالیہ مظاہروں کی سب سے اہم چیز امریکہ ہے۔ اس سال ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت مخالف مظاہروں کو امریکی حمایت حاصل ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ وہ حکومتی عہدیداران کو نشانہ بنا سکتے ہیں جو پہلے کبھی نہیں ہوا ہے۔

2009 میں الیکشن فراڈ کے خلاف مظاہروں کے دوران ایران میں ’اوباما‘ کے نام کے نعرے لگے تھے جن میں سابق امریکی صدر کو پکارتے ہوئے کہا گیا تھا کہ ’آپ ہمارے ساتھ ہیں یا خلاف۔‘

بعد میں اوباما نے کہا تھا کہ انھیں ایران میں حکومت مخالف مظاہرین کی زیادہ پرجوش طریقے سے حمایت نہ کرنے کا دکھ تھا۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ حالیہ مظاہروں کو ’ایران کے دشمن استعمال‘ کر رہے ہیں۔ لیکن ان کے لیے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ایران کے دوستوں کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے۔

ایران شام میں بشار الاسد کی حمایت کھو چکا ہے جبکہ لبنان میں حزب اللہ بھی اسرائیلی کارروائیوں کی وجہ سے کمزور ہو چکی ہے۔

اسرائیل

حالیہ مظاہرے اسرائیل کے ساتھ 12 روزہ جنگ کے بعد ہوئے ہیں جب امریکہ نے بھی ایران پر حملہ کیا تھا۔

صحافی عباس عابدی کا ماننا ہے کہ اس کی وجہ سے ’ایرانی حکام کے پاس ایک موقع تھا کہ وہ عوام میں اتحاد پیدا کر سکیں لیکن حکومت اس جنگ کا فائدہ اٹھانے میں ناکام رہی۔‘

چند ماہرین کا ماننا ہے کہ اسرائیل سے جنگ کی وجہ سے پاسداران انقلاب کی شہرت اور ساکھ کو نقصان پہنچا جو ملک کی مرکزی عسکری طاقت سمجھی جاتی ہے۔

فوج کہاں کھڑی ہے اور حکومت کیا چاہتی ہے؟

ایران میں ملک گیر مظاہروں کے چودھویں دن، اسلامی جمہوریہ کی فوج نے ایک سخت الفاظ میں بیان جاری کیا جس میں اسرائیل اور ’دہشت گرد گروہوں‘ کی طرف سے ’عوامی سلامتی کو متاثر کرنے‘ کی ’سازش‘ سے خبردار کیا گیا ہے۔

فوج نے یہ بھی اعلان کیا کہ وہ ’دیگر مسلح افواج‘ کے ساتھ ’قومی مفادات، ملک کے سٹریٹجک انفراسٹرکچر اور عوامی املاک‘ کا تحفظ کرے گی۔

فوج کے حالیہ بیان میں اس بات کی وضاحت نہیں کی گئی ہے کہ وہ سکیورٹی کی صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لیے ’دیگر مسلح افواج‘ کے ساتھ کس طرح تعاون کرے گی۔ نتیجے کے طور پر، عوامی مظاہروں کے دوران فوجی مداخلت کے پچھلے نمونوں کا جائزہ لینا مفید ہے تاکہ ان ممکنہ طریقوں کو سمجھ سکیں جن میں یہ تعاون ہو سکتا ہے۔

نومبر 2019 کے مظاہروں کے دوران، جس کے نتیجے میں گذشتہ سڑکوں پر ہونے والے مظاہروں سے زیادہ ہلاکتیں ہوئیں، اس بارے میں مخصوص معلومات جاری کی گئیں کہ فوج نے مظاہرین سے نمٹنے میں کس طرح مداخلت کی۔

مظاہروں کے ختم ہونے کے ایک ہفتے بعد، عبدالرضا رحمانی فضلی، اس وقت کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ، نے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سیکورٹی فورسز کی’نقل و حمل، رسد اور مدد‘ میں فوج کے کردار کا اعلان کیا۔

حسن روحانی کی حکومت کے وزیر داخلہ نے فوج کی لاجسٹک امداد کی وضاحت کرنے کے ساتھ ساتھ اس فورس کے مسلح یونٹوں کی کارروائیوں کا بھی حوالہ دیا: ’ایسے معاملات میں جہاں ہمارے پاس اہلکاروں کی کمی تھی، ہم حساس مقامات اور علاقوں کی حفاظت کے لیے فوج کو لائے تاکہ پولیس فورس آزاد ہو اور مختلف مقامات پر جا سکے۔‘

ان بیانات سے یہ واضح ہو گیا کہ اسلامی جمہوریہ میں فوج کی مداخلت کی وجہ ’افرادی قوت کی کمی‘ ہے اور یہ کہ ان کا فرض ’حساس مقامات اور علاقوں کی حفاظت‘ ہے تاکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور دیگر سیکورٹی فورسز کو مظاہرین سے براہ راست نمٹنے کے لیے آزاد کیا جا سکے۔

اسلامی جمہوریہ کی فوج کے ایک حالیہ بیان میں، ’سٹریٹجک انفراسٹرکچر اور عوامی املاک‘ کی حفاظت کے لیے ’دیگر مسلح افواج‘ کی مدد کرنے پر زور دیا گیا ہے، ممکنہ طور پر اسی طرح کے مشن کی تجویز ہے: فوج کے اہلکار حساس تنصیبات اور سرکاری عمارتوں کی حفاظت کا کام اس وقت تک سنبھالیں گے جب تک کہ حفاظتی دستے سڑکوں پر نہ آ جائیں۔