ایران: مہنگائی کے خلاف احتجاج کا 13 واں دن، ٹرمپ کی حملے کی پھر دھمکی

51

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو ایران میں مظاہرین کے مارے جانے کی صورت میں فوجی حملوں کی اپنی سابقہ دھمکی دہراتے ہوئے کہا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ ایران کے رہنما ’بڑی مشکل میں‘ ہیں۔ 

ٹرمپ نے کہا: ’مجھے ایسا لگتا ہے کہ لوگ کچھ ایسے شہروں پر قبضہ کر رہے ہیں، جن کے بارے میں کچھ ہفتے پہلے کسی کا خیال نہیں تھا کہ یہ واقعی ممکن ہے۔‘

مہنگائی کے خلاف شروع ہونے والی اس تحریک میں ایران بھر میں 13 دنوں سے مظاہرے جاری ہیں، جس میں اس مذہبی نظام کے خاتمے کے مطالبات بڑھ رہے ہیں جو 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد سے ایران پر حکمران ہے، جس نے مغرب نواز شاہ کو اقتدار سے ہٹا دیا تھا۔

حکومت کے خلاف تین سال سے زائد عرصے میں سب سے بڑی تحریک کو آگے بڑھانے کے لیے ایرانی شہری جمعے کو بھی سڑکوں پر نظر آئے۔ حکام نے کریک ڈاؤن کے حصے کے طور پر انٹرنیٹ کی بندش کو برقرار رکھا ہوا ہے۔ ان مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن میں درجنوں افراد جان سے جا چکے ہیں۔

اے ایف پی کی جانب سے تصدیق شدہ ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دارالحکومت تہران کے شمالی ضلع سعادت آباد میں لوگوں نے برتن بجائے اور سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے خلاف نعرے لگائے، جب کہ مظاہرین کی حمایت میں گاڑیوں کے ہارن بھی بجائے گئے۔

سوشل میڈیا پر موجود دیگر تصاویر میں تہران میں دیگر مقامات پر بھی اسی طرح کے مظاہرے دکھائے گئے، جب کہ ایران سے باہر قائم فارسی زبان کے ٹیلی ویژن چینلز کی جاری کردہ ویڈیوز میں مشرقی شہر مشہد، شمال میں تبریز اور مقدس شہر قم میں بڑی تعداد میں لوگوں کو نئے مظاہروں میں حصہ لیتے دکھایا گیا۔

یہ مظاہرے جمعرات کو ہونے والے ان بڑے مظاہروں کے بعد ہوئے جو 23-2022 کی اس احتجاجی تحریک کے بعد ایران میں سب سے بڑے تھے، جو مہسا امینی کی دوران حراست موت سے شروع ہوئی تھی، جنہیں مبینہ طور پر خواتین کے لیے لباس کے قوانین کی خلاف ورزی پر گرفتار کیا گیا تھا۔

یہ ریلیاں اس وقت نکالی گئیں جب انٹرنیٹ کی نگرانی کرنے والی تنظیم نیٹ بلاکس نے کہا کہ ایرانی حکام نے گذشتہ 24 گھنٹے کے لیے ’ملک گیر انٹرنیٹ بندش‘ نافذ کی، جو ایرانیوں کے حقوق کی خلاف ورزی اور ’حکومتی تشدد کو چھپا رہا‘ ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا کہ ’انٹرنیٹ کی مکمل بندش‘ کا مقصد ’انسانی حقوق کی ان سنگین خلاف ورزیوں اور بین الاقوامی قانون کے تحت جرائم کی اصل حد کو چھپانا ہے جو وہ مظاہروں کو کچلنے کے لیے کر رہے ہیں۔‘

تین جنوری سے بڑھتے ہوئے مظاہروں پر اپنے پہلے تبصرے میں، خامنہ ای نے جمعے کو مظاہرین کو ’غارت گر‘ اور ’تخریب کار‘ قرار دیا۔

سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والی ایک تقریر میں، خامنہ ای نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ہاتھ ’ایک ہزار سے زائد ایرانیوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔‘ ان کا یہ بیان بظاہر ایران کے خلاف اسرائیل کی جون 2025 کی اس جنگ کا حوالہ تھا، جس کی امریکہ نے حمایت کی تھی اور خود بھی حملوں میں شامل ہوا تھا۔

انہوں نے پیش گوئی کی کہ ’مغرور‘ امریکی رہنما کا بھی اس شاہی خاندان کی طرح ’تختہ الٹ‘ دیا جائے گا، جنہوں نے 1979 کے انقلاب تک ایران پر حکمرانی کی تھی۔

’ہر کوئی جانتا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے قیام کے لیے لاکھوں لوگوں نے خون دیا۔ وہ تخریب کاروں کے سامنے پیچھے نہیں ہٹے گی۔‘

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعے کو لبنان کے دورے پر واشنگٹن اور اسرائیل پر ’براہ راست مداخلت‘ کا الزام لگایا کہ وہ ’پرامن مظاہروں کو تقسیم کرنے والے اور پرتشدد مظاہروں میں تبدیل‘ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جسے امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے ’خام خیالی‘ قرار دیا۔