اپنا دفاع اور اتحادیوں کی محدود مدد، امریکہ کی نئی حکمتِ عملی میں چین اور روس سے کیسے نمٹا جائے گا؟

8

امریکی محکمۂ جنگ پینٹاگون نے رواں سال کی حکمت عملی کی دستاویز جاری کر دی ہے جس کے مطابق امریکی فوج اپنی توجہ ملک کی حفاظت اور چین کو روکنے پر مرکوز کرے گی۔

اس کے علاوہ یورپ اور دیگر علاقوں میں اتحادیوں کو صرف ’محدود‘ مدد فراہم کی جائے گی۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق 2026 کی نیشنل ڈیفینس سٹریٹجی (این ڈی ایس) گذشتہ پالیسی سے نمایاں طور پر مختلف ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس پالیسی میں اتحادیوں پر زیادہ ذمہ داریاں اُٹھانے اور واشنگٹن سے کم سے کم معاونت حاصل کرنے پر زور دیا گیا ہے۔

اس حکمت عملی میں امریکہ نے اپنے روایتی حریف چین اور روس کے حوالے سے نرمی دکھائی ہے۔

دستاویز میں کہا گیا ہے کہ ’جب امریکی افواج ملک کی حفاظت اور انڈو-پیسیفک پر توجہ مرکوز کریں گی تو دیگر علاقوں میں ہمارے اتحادی اور شراکت دار اپنی دفاعی ذمہ داری خود سنبھالیں گے جبکہ انہیں امریکی افواج کی جانب سے اہم لیکن محدود معاونت حاصل ہو گی۔‘

گذشتہ نیشنل ڈیفینس سٹریٹجی جسے سابق صدر جو بائیڈن کے دور میں جاری کیا گیا تھا، میں چین کو سب سے بڑا چیلنج اور روس کو سنگین خطرہ قرار دیا گیا تھا۔

تاہم، نئی دستاویز میں بیجنگ کے ساتھ ’عزت و احترام پر مبنی تعلقات‘ قائم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے اور اس میں امریکہ کے اتحادی تائیوان کا ذکر نہیں ہے، جسے چین اپنا حصہ مانتا ہے۔

دستاویز میں روس کے خطرے کو مستقل مگر ایسا خطرہ قرار دیا گیا ہے جو ’قابو پانے کے قابل‘ ہے۔

جو بائیڈن اور صدر ٹرمپ دونوں کی حکمت عملی میں ملک کی حفاظت کو اہم قرار دیا گیا ہے، لیکن دونوں امریکہ کو درپیش خطرات کو مختلف انداز میں بیان کرتے ہیں یعنی ان خطرات کی تشریح دونوں کے لیے مختلف ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ کی نیشنل ڈیفنس سٹریٹجی نے سابقہ حکومت پر سرحدی سکیورٹی کو نظر انداز کرنے کا الزام لگایا، جس کی وجہ سے ’غیر قانونی تارکین وطن کا سیلاب‘ اُمڈ آیا اور منشیات کی بڑے پیمانے پر سمگلنگ ہوئی۔

دستاویز میں کہا گیا ہے کہ ’سرحدی تحفظ قومی تحفظ ہے اور پینٹاگون اس لیے سرحدوں کو بند کرنے، کسی بھی قسم کے حملے کو روکنے اور غیر قانونی تارکین کو ملک بدر کرنے کے اقدامات کو ترجیح دے گا۔‘

جو بائیڈن نے چین اور روس پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ملک کی سکیورٹی کے لیے دہشت گردی کے خطرے سے بھی زیادہ سنگین چیلنجز ہیں۔

صدر ٹرمپ کی پالیسی ماحولیاتی تبدیلی کے خطرات کا ذکر نہیں ہے جسے جو بائیڈن انتظامیہ نے اُبھرتا ہوا خطرہ قرار دیا تھا۔