اورناچ اور بلیدہ کاروائیوں میں تین قابض فوجی اہلکار اور ایک مخبر ہلاک – بی ایل اے

48

بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جیئند بلوچ نے میڈیا کو جاری بیان میں کہا ہے کہ سرمچاروں نے اورناچ میں قابض پاکستانی فوج کو ایک حملے میں نشانہ بنایا جبکہ بلیدہ میں زیر حراست آلہ کار کے سزائے موت پر عمل درآمد کیا۔

ترجمان نے کہاکہ خضدار کے علاقے اورناچ میں پندرہ جنوری کو بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے شاہراہ پر قابض پاکستانی فوج کی گاڑیوں کو گھات لگاکر حملے میں نشانہ بنایا، قابض فوج کی ایک گاڑی براہ راست حملے کی زد میں آئی جس کے نتیجے میں تین اہلکار موقع پر ہلاک ہوگئے۔

انہوں نے کہاکہ بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے پچیس دسمبر کو بلیدہ کے علاقے گلی سے نوید احمد ولد محمد ہاشم سکنہ بلیدہ گلی کو حراست میں لیا۔ نوید ہاشم نے دوران تفتیش اعتراف کیا کہ قابض فوج کے صوبیدار کی سرپرستی میں بطور مخبر کام کرتا رہا ہے۔

ترجمان نے کہاکہ نوید ہاشم نے اعتراف کیا کہ دکاندار کے بھیس میں وہ سرمچاروں کی نقل و حرکت پر نظر رکھتا رہا ہے جبکہ بٹ، الندور اور زندان میں قابض فوج کے کیمپوں کیلئے راشن و دیگر سامان پہنچانے سمیت فوج کے کہنے پر جسم فروش خواتین کو ان کے کیمپوں میں لے جایا کرتا تھا۔

آلہ کار نوید ہاشم نے اعتراف کیا کہ وہ بلوچ نوجوانوں کی پروفائلنگ اور انہیں قابض فوج و نام نہاد ڈیتھ اسکواڈ کے ہاتھوں جبری گمشدہ کرنے میں بھی ملوث رہا ہے۔ اس کے عیوض قابض فوج کی جانب سے اسے پیسے دیئے گئے اور ٹوکن فراہمی کا وعدہ کیا گیا۔

مزید کہاکہ نوید ہاشم کو قومی غداری کے مرتکب ہونے پر بلوچ قومی عدالت نے سزائے موت سنائی جس پر سرمچاروں نے عملدرآمد کرکے اسے تربت کے علاقے پیری کہن میں ہلاک کردیا۔ نوید ہاشم نے کئی آلہ کاروں کے نام افشاں کیئے جو جلد ہی اپنی منطقی انجام کو پہنچیں گے۔

بیان کے آخر میں کہاکہ بلوچ لبریشن آرمی مذکورہ دونوں کاروائیوں کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔