افغانستان تمام دہشتگرد تنظیمیں ختم کرے : پاکستان، چین کا مشترکہ اعلامیہ

164

پاکستان اور چین نے مطالبہ کیا ہے کہ افغانستان میں موجود دہشت گرد تنظیمیں خطے اور عالمی سلامتی کیلئے بڑا خطرہ ہیں۔ پاکستان اور چین نے دہشتگردی کے خلاف عدم برداشت کی پالیسی اور دو طرفہ سکیورٹی تعاون مزید بڑھانے پر اتفاق کیا۔

گزشتہ روز بیجنگ میں چینی وزیر خارجہ وانگ ی ی اور نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار کی مشترکہ صدارت میں ہونے والے ساتویں پاک چین اسٹریٹجک ڈائیلاگ کا مشترکہ اعلامیہ جاری کر دیا گیا۔

اعلامیہ کے مطابق چین کی دعوت پر پاکستان وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے 3 سے 5 جنوری تک چین کا دورہ کیا، پاک چین وزرائے خارجہ ملاقات میں جنوبی ایشیا میں امن، یکطرفہ اقدامات کی مخالفت اور تنازعات کے حل پر زور دیا گیا ہے اور مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کیلئے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی اہمیت پر اتفاق کیا گیا۔

سٹریٹجک ڈائیلاگ میں افغانستان میں دہشتگرد تنظیموں کی موجودگی پر پاکستان کا موقف تسلیم کیا گیا اور اتفاق کیا گیا کہ افغانستان میں موجود دہشت گرد تنظیموں کے خاتمے کیلئے مصدقہ اقدامات ہونے چاہئیں۔ اعلامیہ میں افغانستان سے کہا گیا ہے کہ اپنے علاقوں میں موجود تمام دہشت گرد تنظیموں کے خاتمے کیلئے واضح اور قابل تصدیق اقدامات کرے اور یقینی بنائے کہ دہشت گرد تنظیمیں افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ کریں۔ افغان مسئلے پر دونوں ممالک کا رابطے اور بات چیت جاری رکھنے پر بھی اتفاق ہوا۔

مذاکرات میں پاکستان چین تعلقات، دفاعی و سکیورٹی تعاون، تجارت، سرمایہ کاری اور عوامی روابط پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، دونوں ممالک نے اسٹریٹجک رابطے بڑھانے اور باہمی اعتماد مزید مضبوط کرنے پر اتفاق کیا، اس کے علاوہ چین اور پاکستان نے 2026 میں سفارتی تعلقات کے 75سال مکمل ہونے کی تقریبات شروع کرنے کا اعلان بھی کیا۔ مشترکہ اعلامیہ کے مطابق پاکستان اور چین کے درمیان دوستی کو نسل در نسل منتقل کرنے اور تعاون کے نئے شعبے تلاش کرنے پر اتفاق کیا گیا اور پاک چین آہنی برادرانہ اور آل ویدر اسٹریٹجک تعلقات کی توثیق کی گئی، اس کے علاوہ سی پیک 2، زراعت، معدنیات اور گوادر پورٹ پر تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

پاکستان اور چین نے خلائی تعاون میں پیشرفت اور پاکستانی خلابازوں کی چینی خلائی سٹیشن میں متوقع شمولیت پر بھی اتفاق کیا۔پاکستان نے ون چائنا پالیسی کے تحت، تائیوان، سنکیانگ، تبت، ہانگ کانگ اور جنوبی بحیرۂ چین پر چین کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا جبکہ چین نے پاکستان کی خود مختاری، علاقائی سالمیت اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بھرپور تعاون کا اعلان کیا۔

پاکستان نے ایک چین کے اصول پر اپنے مضبوط عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ تائیوان چین کا اٹوٹ انگ ہے ۔ پاکستان نے چین کی قومی وحدت کیلئے تمام کوششوں کی حمایت کی اور تائیوان کی علیحدگی، دو چین یا ایک چین، ایک تائیوان کے کسی بھی تصور کی مخالفت کی۔ اسٹریٹجک ڈائیلاگ میں چین، بنگلہ دیش اورپاکستان کے درمیان تعاون کا طریقہ کار طے کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا ۔

شترکہ اعلامیہ میں کہا گیا کہ دنیا دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں تعاون بڑھائے ،دونوں ممالک نے انسداد دہشت گردی اقدامات پر عالمی دوہرے معیار کی مخالفت کا بھی اظہار کیا۔ چین نے عالمی اور خطے کے امور میں پاکستان کے اہم اور موثر کردار کی حمایت کا اعادہ کیا۔

پاکستان اور چین نے دہشت گردی کیخلاف تعاون مزید مضبوط کرنے اور سی پیک بلارکاوٹ آگے بڑھانے جبکہ دفاع ، معیشت ، تجارت میں دوطرفہ تعاون، سرمایہ کاری اور ثقافتی روابط بڑھانے پربھی اتفاق کیا ۔ دونوں ممالک نے 2025سے 2029 کے تعاون کے حوالے سے معاہدہ پر عمل کرنے کا بھی اعادہ کیا۔ مشترکہ مفادات کے تحفظ ، سماجی و اقتصادی ترقی اور دنیا میں امن و خوشحالی کے فروغ کا بھی فیصلہ کیا گیا ۔ دونوں ممالک نے سرحد پار آبی وسائل میں تعاون اور عالمی قانونی ذمہ داریوں کی پاسداری پر آمادگی اور خلائی تعاون میں پیشرفت اور پاکستانی خلا بازوں کی جلد چینی خلائی سٹیشن میں شمولیت پر اطمینان کا اظہار کیا۔ سی پیک کے دوسرے مرحلے میں تعاون بڑھانے ،اہم شعبوں ،انڈسٹری ،زراعت اور کان کنی میں تعاون بڑھانے ، گوادر بندرگاہ کی تعمیر اور فعال کرنے ،قراقرم ہائی ویز گزرگاہ، پائیدار ترقی کیلئے پاکستان کی صلاحیت بہتر بنانے ، سرمایہ کاری ،آئی ٹی ،سائنس اور ٹیکنالوجی، سائبر سکیورٹی، فنی اور پیشہ ورانہ تربیت ،تعلیم میں تعاون اور عوامی رابطہ بڑھانے پر اتفاق کیاگیا ۔

دونوں ممالک کا خنجراب پاس کوکھولنے پر بھی اتفاق ہوا اور سی پیک میں تیسرے فریق کی شمولیت کا بھی خیر مقدم کیا گیا ۔ دونوں ممالک نے اگلے سال اسلام آباد میں اسٹریٹجک ڈائیلاگ کے اگلے دور کے انعقاد پر اتفاق کیا۔