اسلام آباد: عدالت کا ایمان مزاری اور انکی شوہر کو فوری گرفتار کرنے کا حکم

0

اسلام آباد کی ضلعی و سیشن عدالت نے وکیل اور انسانی حقوق کی کارکن ایمان زینب مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کو 24 گھنٹوں کے اندر گرفتار کرنے کی ہدایات جاری کردی ہیں۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے سوشل میڈیا پوسٹس کے ذریعے لسانی بنیادوں پر تقسیم کو ہوا دی اور پاکستانی فوج کے دہشت گردی میں ملوث ہونے کا تاثر دیا اور خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں لاپتہ افراد کے معاملات کی ذمہ داری سیکیورٹی فورسز پر عائد کی۔

ادھر عدالتی فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے ایمان مزاری نے کہا ہے کہ یہ بات بالکل واضح ہے کہ اس مقدمے کے آغاز سے لے کر اب تک اس کا واحد مقصد انہیں جیل کی سلاخوں کے پیچھے پہنچانا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ وہی رویہ ہے جو ٹرائل کورٹ نے پہلے اپنایا تھا، جب ان کی غیر موجودگی میں یکطرفہ کارروائی کی گئی اور انہیں جوابی سوالات کا کوئی حق نہیں دیا گیا۔

ایمان مزاری نے مزید کہا کہ اب ایک بار پھر نہ صرف ان کے جوابی سوالات اور دفاع کے بنیادی حق کو ختم کر دیا گیا ہے بلکہ عدالت نے یہ حکم بھی دے دیا ہے کہ انہیں صرف ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کیا جائے، ان کے بقول اس کا مقصد واضح ہے نہ عدالت میں جسمانی موجودگی، نہ جوابی سوالات اور نہ ہی دفاع کا حق۔

واضح رہے کہ ایمان مزاری کے خلاف عدالتی کارروائی کا سلسلہ کئی مہینوں سے جاری ہے، اس سے قبل بھی عدالت نے ایمان مزاری اور ان کے شوہر کی گرفتاری کے احکامات جاری کیے تھے، جنہیں انکے وکلاء نے چیلنج کیا تھا تاہم اب ایک بار پھر عدالت نے دونوں وکلاء کی گرفتاری کے احکامات جاری کردیے ہیں۔

ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف آواز بلند کرنے میں پیش پیش رہے ہیں، انہوں نے بلوچستان سے لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں کے مقدمات کی بھی پیروی کی ہے۔

ایمان مزاری کے خلاف جاری ٹرائل پر انسانی حقوق کی تنظیموں کے ساتھ ساتھ بلوچ سیاسی حلقوں اور بلوچستان سے لاپتہ افراد کے لواحقین نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ان حلقوں کا کہنا ہے کہ ایمان مزاری کو بلوچستان میں جاری جبری گمشدگیوں کے خلاف آواز اٹھانے کی پاداش میں نشانہ بنایا جارہا ہے۔

بلوچ لواحقین نے کہا کہ پاکستان میں جو کوئی بھی بلوچ حقوق، اقلیتوں کے حقوق یا آئین و قانون کی حکمرانی کی بات کرتا ہے اسے غدار قرار دے دیا جاتا ہے۔

ان کے مطابق یہ کوئی نئی بات نہیں بلکہ پاکستان کی طاقتور قوتوں کی ایک طویل تاریخ ہے کہ وہ ایماندار اور بہادر لوگوں کو غدار قرار دیتی آئی ہیں، آج اسی منطق کے تحت ملک کی ایک بڑی آبادی کو چند طاقتور افراد کی نظر میں غدار ٹھہرایا جارہا ہے۔

بلوچ لواحقین نے کہا کہ وہ ایمان مزاری کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور خاموش نہیں رہیں گے۔

انہوں نے عالمی برادری اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ ایمان مزاری اور دیگر پُرامن انسانی حقوق کے کارکنوں کو ہراساں کرنے کا سلسلہ روکنے کے لیے پاکستان پر دباؤ ڈالیں۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی کی اسیر رہنما ماہ رنگ بلوچ نے بھی گزشتہ ماہ قید سے ایک خط میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے ساتھ انصاف، انسانی حقوق اور ہر انسان کے وقار کی جدوجہد میں مکمل یکجہتی کے ساتھ کھڑی ہیں۔

ماہ رنگ بلوچ نے کہا کہ ایمان اور ہادی کی ہمت اور جدوجہد پر خاموش نہیں رہنا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ کئی برسوں سے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ انسانی حقوق کی وکالت میں صفِ اول میں کھڑے ہیں، پسماندہ آوازوں کو سامنے لا رہے ہیں اور ہر قسم کی ناانصافی اور جبر کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان کے خلاف قائم کیا گیا من گھڑت مقدمہ ریاست کے جابرانہ ہتھکنڈوں کو بے نقاب کرتا ہے اور یہ حقیقت اجاگر کرتا ہے کہ انصاف کے نظام کو کس قدر آسانی سے اُن افراد کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے جو بنیادی انسانی حقوق کا دفاع کرتے ہیں۔