اسلام آباد: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی گرفتاری اور سزا کے خلاف وکلاء کی ہڑتال

0

ایڈوکیٹ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی گرفتاری اور سزا کے خلاف وکلاء نے ہڑتال کردی اور عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی گرفتاری کے خلاف آج ہڑتال کا اعلان کیا گیا، جس کے باعث اسلام آباد ہائیکورٹ میں معمول کی عدالتی کارروائی شدید متاثر ہوئی۔

سیکرٹری ہائیکورٹ بار نے کہا ابھی ہم قافلے کے ساتھ ڈسٹرکٹ کورٹ کا دورہ کرنے جا رہے ہیں، ڈسٹرکٹ کورٹ جا کر ہم وکلاء اکٹھے مل کر اپنا احتجاج ریکارڈ کروائیں گے۔

ہڑتال کے پیش نظر اسلام آباد ہائیکورٹ اور اس کے اطراف میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

ہائیکورٹ کے باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے جبکہ پولیس کی بکتر بند گاڑی بھی موجود ہے، بار کی ہڑتال کے باعث وکلاء صرف ارجنٹ نوعیت کے کیسز میں پیش ہو رہے ہیں۔

اسلام آباد بار کونسل، اسلام آباد ہائیکورٹ بار اور ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن نے مشترکہ طور پر آج ہڑتال کی کال دے رکھی ہے۔

اس دوران اسلام آباد ہائیکورٹ میں سول کیس کی سماعت کے دوران وکلاء کی ہڑتال کا معاملہ سامنے آیا۔

سماعت کے دوران وکیل قیصر عباس گوندل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ آج بار کی جانب سے ہڑتال کی کال دی گئی ہے، جس کے باعث سیکرٹری بار منظور ججہ بھی پیش نہیں ہو سکے۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس سرفراز ڈوگر نے استفسار کیا کہ ہڑتال کس بات پر کی جا رہی ہے، جس پر وکیل نے بتایا کہ بار کے وکلاء کی گرفتاری کے خلاف ہڑتال کی گئی ہے۔

چیف جسٹس کے استفسار پر بتایا گیا کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو گرفتار کیا گیا ہے، اس موقع پر چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کیا ان افراد کو وکیل سمجھا جاتا ہے، جس پر وکیل خاموش رہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اگر آپ انہیں وکلاء سمجھتے ہیں تو چیمبر میں آ کر اس حوالے سے اظہارِ رائے دے سکتے ہیں۔

وکلاء کی ہڑتال کے باعث کیس کی سماعت میں کوئی پیش رفت نہ ہو سکی اور کارروائی مؤخر کر دی گئی۔