آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس میں جبری گمشدگیوں کے متاثرین اور انسانی حقوق کے کارکنان کا میڈیا ٹرائل ریاستی جبر اور بلوچ نسل کشی کی پالیسی کو جواز دینے کی منظم کوشش ہے۔ بی وائی سی

49

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے کہا ہے کہ گزشتہ دنوں ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس ایک بار پھر اس تلخ حقیقت کی خود تصدیق بن کر سامنے آئی ہے کہ بلوچستان میں ریاستی جبر بدستور جاری ہے، اور ریاستی ادارے جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل جیسے سنگین جرائم کو مختلف اصطلاحات اور بیانیوں کے ذریعے جائز ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ اس پریس کانفرنس میں ان سیاسی و انسانی حقوق کی تنظیموں اور کارکنان کو نشانہ بنایا گیا جو مسلسل ریاستی تشدد، گرفتاریوں، ایف آئی آرز اور دھمکیوں کے باوجود جبری گمشدگیوں اور ریاستی جبر کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں۔ پریس کانفرنس میں نہ کوئی نیا مؤقف پیش کیا گیا اور نہ ہی کوئی قابلِ اعتبار وضاحت فراہم کی گئی، بلکہ ایک پرانا، فرسودہ اور اسکرپٹڈ بیانیہ دہرایا گیا جس کا واحد مقصد حقائق سے توجہ ہٹانا اور ریاستی جبر کو درست ثابت کرنا تھا۔

ترجمان نے کہاہے کہ خصوصاً بلوچ یکجہتی کمیٹی اور اس کی رہنما ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کے خلاف جاری پروپیگنڈا اسی ریاستی پالیسی کا تسلسل ہے جو گزشتہ کئی ماہ سے پوری شدت کے ساتھ جاری ہے۔ متعدد پریس کانفرنسز میں بلوچ یکجہتی کمیٹی اور اس کی قیادت پر یکساں، بے بنیاد اور جھوٹے الزامات عائد کیے گئے، مگر آج تک ڈی جی آئی ایس پی آر ان میں سے ایک بھی الزام ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے۔ یہ الزامات محض بہتان تراشی اور ریاستی جبر کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کو خاموش کرانے کی کوشش کے سوا کچھ نہیں۔

افسوسناک امر یہ ہے کہ ان الزامات کے دوران موجود صحافی نہ سوال اٹھاتے نظر آئے اور نہ ہی سچ جاننے کی سنجیدہ کوشش کی گئی۔ یوں محسوس ہوا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس میں صحافت کا کردار عملاً مفلوج ہو چکا ہے، جہاں بندوق کے سائے میں بیٹھے صحافی منطقی اور تنقیدی سوال پوچھنے سے قاصر دکھائی دیے۔

مزید کہاکہ اسی طرزِ فکر کا تسلسل کوئٹہ میں چیف سیکریٹری کی پریس کانفرنس میں بھی دیکھا گیا، جہاں ڈی جی آئی ایس پی آر کے بیانیے کو من و عن اپناتے ہوئے جبری گمشدگیوں کو مختلف طریقوں سے جواز فراہم کیا گیا۔ بغیر کسی ثبوت اور عدالتی کارروائی کے جبری گمشدگی کے شکار افراد کو دہشت گرد قرار دیا گیا۔ اگر کوئی شخص واقعی دہشت گرد ہے تو اسے قانونی طریقے سے گرفتار کر کے عدالتوں میں پیش کیوں نہیں کیا جاتا؟ برسوں تک جبری گمشدگی کے بعد اس کی مسخ شدہ لاش کیوں برآمد ہوتی ہے؟ اگر کسی کے خلاف شواہد موجود ہیں تو وہ عدالت میں کیوں پیش نہیں کیے جاتے؟

حقیقت یہ ہے کہ بلوچستان میں روزانہ کی بنیاد پر لوگوں کو جبری طور پر لاپتہ کیا جا رہا ہے۔ صرف رواں سال میں دو ہزار سے زائد افراد کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ کوئی ایسا گھر نہیں بچا جہاں سے کسی نہ کسی فرد کو زبردستی لاپتہ نہ کیا گیا ہو۔

ترجمان نے کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی، وکلا، انسانی حقوق کے ادارے اور سول سوسائٹی گزشتہ کئی برسوں سے متفقہ طور پر اس مؤقف پر قائم ہیں کہ جبری گمشدگی کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں۔ جبری گمشدگی نہ صرف پاکستان کے آئین بلکہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت بھی ایک سنگین جرم ہے۔ ان پریس کانفرنسز میں جبری گمشدگی کے متاثرین اور ان کے حق میں آواز اٹھانے والوں کا میڈیا ٹرائل دراصل اسی مقصد کے تحت کیا جاتا ہے کہ ان آوازوں کو دبایا جائے، خوف کا ماحول پیدا کیا جائے، جبری گمشدگیوں میں مزید تیزی لائی جائے اور پوری بلوچ سماج کو مفلوج کر دیا جائے تاکہ کوئی بھی ریاستی جبر کے خلاف بولنے کی جرات نہ کر سکے۔

ہم، بطور ایک سیاسی تنظیم، جبری گمشدگیوں سمیت بلوچ نسل کشی کے ہر پہلو کے خلاف اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے۔ کوئی بھی شخص چاہے ایک دن کے لیے ہی کیوں نہ جبری طور پر لاپتہ کیا جائے، جب تک اسے عدالت میں پیش نہیں کیا جاتا، ہم اس کا مقدمہ دنیا کے سامنے اٹھاتے رہیں گے۔ جب تک ملک کی عدالتیں کسی شخص کو مجرم یا دہشت گرد قرار نہ دیں، کسی بھی ادارے کو بندوق کے زور پر ایسا لیبل لگانے کا کوئی حق حاصل نہیں۔

آخر میں کہاکہ یہ پریس کانفرنسز اور میڈیا ٹرائل ہمیں ریاستی جبر کے خلاف آواز اٹھانے سے ہرگز نہیں روک سکتے۔ اس کے برعکس، ہم مزید منظم، مضبوط اور مؤثر انداز میں جبری گمشدگیوں اور ریاستی جبر کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔