آئل کمپنیوں کو وینزویلا میں سرمایہ کاری کی پیشکش، کمپنیوں کی ضمانت کی مانگ

44

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ میں تیل اور گیس کی صنعت سے وابستہ کاروباری شخصیات پر زور دیا ہے کہ وہ وینزویلا میں تیل کی صنعت پر کم از کم 100 ارب ڈالرز خرچ کریں۔

لیکن جمعے کو وائٹ ہاؤس آنے والے ایک ایگزیکٹو نے متنبہ کیا کہ وینزویلا کی تیل کی صنعت اس وقت ’سرمایہ کاری کے قابل‘ نہیں ہے۔

اجلاس میں شریک امریکہ میں تیل کی بڑی کمپنیوں کے مالکان نے تسلیم کیا کہ وینزویلا میں توانائی کے وسیع ذخائر ہیں اور یہاں بہت سے مواقع میسر ہیں۔ لیکن اُن کا کہنا تھا کہ خطے کو سرمایہ کاروں کے لیے پرکشش بنانے کے لیے اہم تبدیلیوں کی ضرورت ہو گی۔

صدر ٹرمپ کی جانب سے بلائے گئے اس اجلاس میں کسی بھی کمپنی کی جانب سے کوئی بڑا وعدہ سامنے نہیں آیا۔

صدر ٹرمپ نے تین جنوری کو امریکی فورسز کی کارروائی کے بعد صدر مادورو اور اُن کی اہلیہ کی گرفتاری اور امریکہ منتقلی کے بعد کہا تھا کہ امریکہ وینزویلا سے تیل نکالے گا۔

صدر ٹرمپ کا اجلاس کے دوران کہنا تھا کہ اس سے امریکہ میں تیل کی قیمتیں مزید کم ہوں گی۔

امریکی آئل کمپنی ایگزون کے چیف ایگزیکٹو ڈیرن ووڈس نے کہا کہ ’ہمارے وہاں وینزویلا میں اثاثے دو مرتبہ ضبط ہو چکے ہیں۔ لہذا ہم تیسری مرتبہ وہاں سرمایہ کاری کے لیے کچھ ضمانتیں چاہتے ہیں۔ موجودہ حالات میں ابھی وہاں سرمایہ کاری ممکن نہیں ہے۔‘

وینزویلا میں ایک صدی قبل تیل دریافت ہوا تھا، اس کے بعد سے لے کر آج تک اس کے تیل کمپنیوں کے ساتھ تعلقات پیچیدہ رہے ہیں۔

شیورون واحد امریکی تیل فرم ہے جو اب بھی ملک میں کام کر رہی ہے۔

سپین کی ریپسول اور اٹلی کی ای این آئی سمیت دیگر ممالک کی کچھ کمپنیوں کے نمائندے بھی وائٹ ہاؤس میں ہونے والے اجلاس میں شریک تھے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ان کی انتظامیہ فیصلہ کرے گی کہ کن فرمز کو وینزویلا میں کام کرنے کی اجازت دی جائے گی۔

صدر کا کہنا تھا کہ ’آپ ہمارے ساتھ براہ راست معاملہ کر رہے ہیں۔ آپ وینزویلا کے ساتھ بالکل بھی معاملہ نہیں کر رہے ہیں۔ ہم نہیں چاہتے کہ آپ وینزویلا کے ساتھ معاملہ کریں۔‘