یورپی یونین کا ایران کی پاسدارانِ انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کا فیصلہ

12

یورپی یونین نے ایران کی نیم فوجی تنظیم پاسدارانِ انقلاب “آئی آر جی سی” کو دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا ہے۔

یہ فیصلہ مبینہ طور پر ایران میں ملک گیر مظاہروں کے خلاف ریاستی فورسز کے خونریز کریک ڈاؤن کے پس منظر میں کیا گیا ہے، جس میں ہزاروں افراد کے ہلاک اور گرفتار ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کایا کالس کے مطابق 27 رکن ممالک کے وزرائے خارجہ نے اس فیصلے پر متفقہ طور پر اتفاق کیا، انہوں نے کہا کہ اپنے ہی شہریوں کے خلاف طاقت کے اندھا دھند استعمال کرنے والی حکومتیں دراصل اپنے خاتمے کی بنیاد رکھتی ہیں۔

فیصلے کے ساتھ ہی یورپی یونین نے 15 ایرانی حکام پر نئی پابندیاں بھی عائد کردی ہیں، جن میں پاسدارانِ انقلاب کے اعلیٰ افسران شامل ہیں، ان پابندیوں کے تحت اثاثے منجمد کرنے اور سفری پابندیاں نافذ کی گئی ہیں۔

یورپ کی کونسل کے مطابق پابندیوں کا ہدف ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنینی، اٹارنی جنرل محمد موحدی آزاد اور تہران کی انقلابی عدالت کے جج ایمان افشاری ہیں، جن پر پُرامن مظاہرین، سیاسی کارکنوں اور انسانی حقوق کے دفاع کرنے والوں کے خلاف جبر اور من مانی گرفتاریوں کے الزامات عائد ہیں۔

انسانی حقوق کے اداروں کا دعویٰ ہے کہ ایران میں مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن کے دوران اب تک 6 ہزار 300 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ ہزاروں افراد جیلوں میں قید ہیں۔

دوسری جانب ایرانی حکومت نے یورپی یونین کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اسے سیاسی دباؤ اور بیرونی مداخلت قرار دیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ یہ اقدام خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے۔