ہمارا جنریشن زی کیا کر رہا ہے – شاہ میر کلانچی

43

ہمارا جنریشن زی کیا کر رہا ہے

تحریر: شاہ میر کلانچی

دی بلوچستان پوسٹ

پاکستان میں ایک آرٹیکل کے بعد Gen Z لفظ کافی مقبول ہے۔ جنریشن زی یعنی وہ جنریشن جو 1997 سے 2010 میں پیدا ہوئے، کہتے ہیں کہ انہی ادوار میں دنیا ڈیجیٹائز ہوتی گئی اور دنیا اس قدر آگے نکل گئی کہ ہمارے جیسے ملک میں بھی شہری تصورات سے زیادہ ڈیجیٹل ہوگئے۔ دنیا کو ترقی کی جانب گامزن کرنے والی اہم نسل جنریشن زی (Gen Z) ہے۔ دنیا نے اس قدر ترقی کی کہ آج آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) تک پہنچ چکی ہے۔

یہاں سوال یہ ذہن میں آتا ہے کہ ہمارا جنریشن زی کہاں ہے؟ کیوں ہم اس ترقی یافتہ سماج کا حصہ نہیں؟

ہم کراچی شہر کے قدیمی رہائشی ہیں۔ ہمارے یہاں تعلیمی ادارے بھی موجود تھے جہاں سے ہمارے بڑوں نے تعلیم حاصل کر کے مختلف شعبوں میں اپنا اور اپنے علاقے کا نام روشن کیا۔ تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب دنیا ڈیجیٹائز ہو رہی تھی تو ہمارا جنریشن زی کہاں تھا؟

جب ہمارے جنریشن زی کو فراہم سہولیات سے فائدہ اٹھا کر ترقی کی دوڑ میں شامل ہونا تھا، اسی دوران یوں لگا کہ ہمارا معاشرہ ایک زبان تھا کہ کسی بھی طرح ہمیں ترقی کی دوڑ میں شامل نہیں ہونے دیں گے۔ اسے آپ پالیسی سازوں کی پالیسی کا کمال کہہ دیں یا ان کے سیاسی رعایا کی ذہانت، مگر حالات ایسے پیدا کیے گئے کہ جس نوجوان نسل نے ترقی کی جانب جانا تھا، اس نسل نے تباہی کا راستہ اپنا لیا۔

جن نوجوانوں نے ترقی کی راہ میں اپنے بڑوں کا نام روشن کرنا تھا، وہ اندھیرے راستے پر نکل پڑے۔ معززین، بزرگ، سرکاری افسران، میر و معتبر سب تماشا دیکھتے رہے۔ جن اداروں کا کام قانون نافذ کرنا تھا، وہ قانون ہمارے یہاں کئی نظر نہیں آیا۔ اس طرح ہمارا جنریشن زی کی اکثریت نے معاشرے کی تباہی میں اپنا بھرپور حصہ ڈالا۔ قلم کی جگہ کمپیوٹر نے لینی تھی مگر ہمارے یہاں قلم کی جگہ بندوق نے لے لی۔ اور پالیسی ساز کی پالیسی میں مہارت کی داد دینی چاہیے کہ اس قدر فرصت سے معاشرے کو پیچھے دھکیلا گیا کہ آج تک یہ معاشرہ اپنے پیروں پر کھڑا نہیں ہو پا رہا۔

اب چونکہ پالیسی سازوں کی پالیسی میں وقتی تبدیلی نظر آ رہی ہے، اب ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے ہی تباہی کے ذمہ دار سیاسی جماعتیں اور معتبر اب معاشرے کا خیرخواہ بن کر سامنے آنے کی کوشش کر رہے ہیں اور سب کچھ کا ذمہ دار صرف پالیسی سازوں کو ٹھہرا رہے ہیں۔ جبکہ ہم سب جانتے ہیں کہ اگر سیاسی جماعتیں اور معتبرین کردار ادا کرتے تو ہمیں اس قدر تباہی کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ ہم نے یہ بھی دیکھا کہ سیاسی جماعتوں نے اس تباہی میں بھرپور کردار ادا کیا بلکہ سہولت کار بننے کو حاضر تھے۔

آج کا نوجوان جو دیکھ رہا ہے، وہ سمجھتا ہے کہ ہمارا معاشرہ ایسا ہی تباہ حال معاشرہ تھا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے نوجوانوں سے سچ بولیں، انہیں اسی معاشرے کے ماضی کے نامور شخصیات کے کردار سے آگاہ کریں، انہیں یہ بتائیں کہ ہم ایک پرسکون معاشرے کے رہائشی تھے اور انہیں یہ بھی بتائیں کہ ہمیں کس طرح اور کن کرداروں نے اس حال پر پہنچایا ہے۔

اگر ہم سب سچ چھپاتے رہے اور اپنے نوجوانوں کو سچ نہ بتایا تو اگلی نسل کی تباہی کے ذمہ دار ہم ہوں گے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔