گوادر: پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جلے ڈپو، متاثرہ مالکان اور مزدوروں کا انصاف کا مطالبہ

59

بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر کی تحصیل جیونی کے علاقے کنٹانی میں پاکستانی فورسز کی کارروائی کے دوران تیل کے روزگار سے وابستہ افراد کے ٹھکانے نذرِ آتش کر دیے گئے، جس کے نتیجے میں متاثرہ افراد نے مالی نقصان کے ازالے اور انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔

واقعے سے متاثرہ مزدوروں کا کہنا ہے کہ ان کے گھروں کے چولہوں کی امید دھویں میں تحلیل ہو گئی ہے، جبکہ درجنوں خاندان شدید معاشی مشکلات سے دوچار ہو چکے ہیں۔

واضح رہے کہ مکران بھر سے روزگار کی تلاش میں ہزاروں افراد کنٹانی کے ساحلی علاقے میں مقیم ہیں، جہاں وہ سمندر سے آنے والے تیل کی ترسیل اور اس سے جڑے مختلف روزگار سے وابستہ ہیں۔ یہ افراد ساحل کے کنارے عارضی رہائش گاہوں، ڈپوؤں اور ٹھکانوں میں رہائش پذیر تھے، جنہیں کارروائی کے دوران جلا دیا گیا۔ متاثرین کے مطابق اس عمل میں ان کے قیمتی اثاثے بھی مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔

واقعے میں متاثر ایک شخص نے دی بلوچستان پوسٹ کو بتایا کہ اس سے قبل کوسٹ گارڈ اہلکار بھتہ وصول کرتے رہے ہیں یا ان کی گاڑیاں اور سامان ضبط کیے جاتے تھے، تاہم اس مرتبہ بغیر کسی پیشگی اطلاع کے فورسز نے اچانک کارروائی کرتے ہوئے سب کچھ راکھ کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ یہاں ہزاروں خاندانوں کا روزگار وابستہ ہے، لیکن حکمرانوں اور بااثر افراد کو ان کی کوئی پروا نہیں۔ انہوں نے گوادر سے منتخب نمائندہ ہدایت الرحمان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اقتدار میں آنے سے قبل وہ ان کے حق میں سڑکوں پر نعرے لگاتے رہے، مگر اسمبلی پہنچنے کے بعد وہ ان مظلوم خاندانوں کے لیے آواز اٹھانے سے گریزاں ہیں۔

متاثرین نے فوری انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ فورسز نے ان کا سب کچھ تباہ کر دیا ہے اور اب بچوں کے لیے دو وقت کی روٹی کمانا بھی انتہائی مشکل ہو چکا ہے۔