گوادر، خاران اور کوئٹہ میں مزید پانچ نوجوان پاکستانی فورسز کے ہاتھوں لاپتہ

43

بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ گوادر کے علاقے جیونی، خاران اور کوئٹہ کے سریاب روڈ سے پانچ نوجوانوں کو پاکستانی فورسز نے لاپتہ کر دیا ہے۔

لاپتہ ہونے والوں میں بالاچ ولد محمد حسن اور احسان ولد محمد حسن، جو فیڈرل اردو یونیورسٹی کراچی کے گریجویٹ ہیں، کو 22 جنوری کو پاکستانی فورسز نے ان کے گھر پر چھاپہ مار کر جبری طور پر حراست میں لے کر لاپتہ کیا۔

علاوہ ازیں حافظ نزیر احمد لہڑی ولد سنجر خان لہڑی، جو پیشے کے لحاظ سے سرکاری ملازم ہیں، کو رواں سال یکم جنوری کو سریاب روڈ، کوئٹہ میں ان کے گھر پر چھاپہ مار کر پاکستانی فورسز نے جبری طور پر لاپتہ کیا۔

بلوچستان کے ضلع خاران میں دو نوجوانوں کی جبری گمشدگی کی اطلاعات سامنے آئی ہے۔ مقامی ذرائع اور اہل خانہ کے مطابق دونوں نوجوانوں کو پاکستانی فورسز نے حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے۔

لاپتہ ہونے والے نوجوانوں کی شناخت عبداللہ ولد حفیظ اللہ سیاہ پاد اور فرہاد ولد احمد بلوچ کے طور پر کی گئی ہے۔

اہل خانہ کے مطابق عبداللہ کو 18 جنوری کی رات ان کے گھر پر چھاپے کے دوران حراست میں لیا گیا۔ خاندان کا کہنا ہے کہ فورسز کے اہلکار بغیر کسی وارنٹ کے گھر میں داخل ہوئے اور نوجوان کو اپنے ساتھ لے گئے، جس کے بعد سے ان کا کوئی پتہ نہیں چل سکا۔

دوسری جانب، فرہاد ولد احمد بلوچ کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ انہیں خاران شہر کے علاقے رب پٹ جوژان سے حراست میں لیا گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق انہیں ایک پاکستانی فورسز کے گاڑی میں بٹھا کر لے جایا گیا، تاہم گرفتاری کی وجہ یا مقام کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔

لواحقین نے مطالبہ کیا ہے کہ لاپتہ کیے گئے ان کے پیاروں کو فوری طور پر منظرِ عام پر لایا جائے۔