بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے بلیدہ کی تحصیل ریکو میں ایک کمسن لڑکے کی جبری گمشدگی کا واقعہ سامنے آیا ہے، جس کے بعد اہلِ خانہ نے اس کی فوری اور باحفاظت بازیابی کی اپیل کی ہے۔
اہلِ خانہ کے مطابق 13 جنوری کی رات تقریباً دو بجے کے قریب پاکستانی فورسز کی بھاری نفری نے علاقے کا محاصرہ کیا اور لال جان نامی شخص کے گھر پر چھاپہ مارا۔
اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ چھاپے کے دوران خواتین اور بچوں کو ہراساں کیا گیا اور بعد ازاں کمسن طالب ولد لال جان کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا۔
طالب کے اہلخانہ کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد انہوں نے علاقے کے معتبرین اور بااثر شخصیات کی یقین دہانی پر خاموشی اختیار کی اور بیٹے کی بازیابی کے لیے انتظار کرتے رہے، تاہم دس دن گزر جانے کے باوجود انہیں نہ تو طالب کے بارے میں کوئی معلومات فراہم کی گئیں اور نہ ہی اس کی رہائی ممکن ہو سکی۔
اہلِ خانہ نے الزام لگایا کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ طالب حسین کو تشدد یا ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ ان کے مطابق گزشتہ سال کے آخر میں طالب حسین اپنے کھیتوں میں مزدوری کرتے ہوئے بکریاں چرا رہا تھا کہ ایک بااثر شخص، جو خود کو ریاستی اداروں سے وابستہ بتاتا ہے، وہاں آیا اور بلا وجہ طالب حسین کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔ اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ غربت اور ممکنہ نقصانات کے خوف سے انہوں نے اس وقت کوئی قانونی کارروائی نہیں کی۔
طالب کے اہلِ خانہ نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ بچے کی فوری اور باحفاظت بازیابی کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں اور انہیں اس کی موجودہ حیثیت سے آگاہ کیا جائے۔

















































