کوئٹہ: گیس لیکج دھماکہ، خاتون اور دو بچوں سمیت چار افراد جھلس کر زخمی

40

کوئٹہ کے علاقے کاسی قلعہ میں واقع ایک رہائشی گھر میں گیس لیکج کے باعث زور دار دھماکہ ہوا، جس کے نتیجے میں ایک خاتون اور دو بچوں سمیت چار افراد جھلس کر زخمی ہو گئے۔

جھلسنے والے افراد کو ہسپتال منتقل کیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ زخمیوں میں ایک خاتون اور دو کمسن بچے شامل ہیں، جنہیں ابتدائی طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

پولیس حکام کے مطابق واقعے کی ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ دھماکہ گیس لیکج کے باعث پیش آیا، تاہم مزید تحقیقات جاری ہیں تاکہ واقعے کی مکمل وجوہات کا تعین کیا جا سکے۔

بلوچستان میں سردیوں کے موسم کے آغاز کے ساتھ ہی گیس لیکج اور حرارتی آلات کے باعث پیش آنے والے حادثات میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آتا ہے۔

خصوصاً کوئٹہ اور دیگر سرد علاقوں میں ہر سال اس نوعیت کے متعدد واقعات رپورٹ ہوتے ہیں، جن میں قیمتی انسانی جانیں ضائع اور درجنوں افراد جھلس کر زخمی ہو جاتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق سردیوں میں گھروں کو گرم رکھنے کے لیے گیس ہیٹرز، چولہے اور دیگر حرارتی آلات کا استعمال بڑھ جاتا ہے، جبکہ گیس کی کم پریشر سپلائی کے باعث شہری متبادل ذرائع، جیسے غیر معیاری ہیٹرز اور سلنڈرز استعمال کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ پرانی اور خستہ حال گیس پائپ لائنز، ناقص کنکشنز اور مناسب دیکھ بھال کے فقدان کی وجہ سے گیس لیکج کے امکانات مزید بڑھ جاتے ہیں۔

پولیس اور ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ زیادہ تر واقعات رات کے اوقات میں پیش آتے ہیں، جب کمرے بند ہونے کی وجہ سے گیس جمع ہو جاتی ہے۔

سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ عوامی آگاہی کی کمی بھی ان حادثات کی ایک بڑی وجہ ہے۔ بیشتر گھروں میں گیس لیکج ڈیٹیکٹرز نصب نہیں ہوتے اور نہ ہی گیس آلات کی بروقت مرمت یا جانچ پڑتال کی جاتی ہے۔ متعلقہ اداروں کی جانب سے حفاظتی اقدامات اور آگاہی مہمات کا فقدان بھی مسئلے کو سنگین بنا رہا ہے۔