بلوچستان میں بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کی جانب سے جاری آپریشن “ہیروف 2 کے تحت حملوں کا سلسلہ شدت اختیار کر گیا ہے۔بلوچستان کے مختلف اضلاع میں خودکش حملوں، مسلح جھڑپوں اور سرکاری تنصیبات پر قبضے کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔
کوئٹہ سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ایک خودکش حملہ آور نے بارودی مواد سے لدی گاڑی کے ذریعے ہاکی گراؤنڈ کے قریب خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔ یہ مقام شہر کے انتہائی حساس ریڈ زون کے بالکل قریب واقع ہے، جہاں وزیرِاعلیٰ سیکریٹریٹ، گورنر ہاؤس، گورنر سیکریٹریٹ، عدالتی کمپلیکس اور دیگر اہم سرکاری دفاتر موجود ہیں۔
ابتدائی اطلاعات میں پولیس اہلکاروں کی ہلاکت اور متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں، تاہم ہلاکتوں اور زخمیوں کی حتمی تعداد کی سرکاری تصدیق تاحال سامنے نہیں آ سکی۔
عینی شاہدین اور مقامی ذرائع کے مطابق گزشتہ کئی گھنٹوں سے کوئٹہ ریڈ زون اور اس کے ملحقہ علاقوں میں درجنوں دھماکوں اور شدید فائرنگ کی آوازیں سنی جا رہی ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ مسلح افراد نے سیکریٹریٹ کے قریب اور سول اسپتال کوئٹہ کے اطراف میں ناکہ بندی قائم کر رکھی ہے، جس کے باعث شہریوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔
اسی دوران کوئٹہ شہر میں ہیلی کاپٹروں کی مسلسل پروازیں جاری ہیں، جبکہ سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر شہر کے متعدد حساس علاقوں کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق شہر میں مسلح افراد کی بڑی تعداد کی موجودگی کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں۔
دوسری جانب بلوچ لبریشن آرمی نے اپنے آفیشل چینل “ہکل” پر ایک ویڈیو جاری کی ہے، جس میں ڈپٹی کمشنر نوشکی اور ان کی اہلیہ کو مسلح افراد کی تحویل میں دکھایا گیا ہے۔ ویڈیو میں ڈپٹی کمشنر یہ بیان دیتے نظر آتے ہیں کہ وہ اس وقت بلوچ لبریشن آرمی کی تحویل میں ہیں۔
مزید اطلاعات کے مطابق کوئٹہ اور نوشکی میں مختلف مقامات پر بلوچ سرمچاروں کی جانب سے پولیس تھانوں اور سرکاری دفاتر کا کنٹرول سنبھالے جانے کی خبریں موصول ہو رہی ہیں۔ نوشکی میں مسلح افراد متعدد ایف سی ہیڈکوارٹرز میں داخل ہو چکے ہیں، جہاں سیکیورٹی فورسز کے ساتھ شدید جھڑپیں جاری ہیں۔ نوشکی سے فائرنگ اور تصادم کی اطلاعات مسلسل موصول ہو رہی ہیں۔















































