کوئٹہ: سرکاری ملازمین کا مطالبات کے حق میں احتجاج

26

شدید سردی اور منفی درجہ حرارت کے باوجود جمعرات کے روز کوئٹہ میں سرکاری ملازمین کے اہلِ خانہ اور بچوں نے بلوچستان گرینڈ الائنس کے چارٹر آف ڈیمانڈ کے حق میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرہ منان چوک میں منعقد ہوا، جہاں شرکاء نے 30 فیصد ڈی آر اے سمیت دیگر مطالبات کی منظوری کا مطالبہ کیا۔

احتجاج میں شریک افراد کا کہنا تھا کہ ملازمین کے جائز مطالبات کو طویل عرصے سے نظرانداز کیا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے سرکاری ملازمین اور ان کے خاندان شدید معاشی مشکلات کا شکار ہیں۔ مظاہرین نے صوبائی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات کیے جائیں۔

مظاہرے کے دوران شرکاء نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے اور مطالبات کے حق میں نعرے بازی کی گئی۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ جب تک ان کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے، احتجاج کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔

واضح رہے کہ بلوچستان کے درجنوں محکموں کے ملازمین گزشتہ سات ماہ سے گرینڈ الائنس کے پلیٹ فارم سے مشترکہ احتجاج کر رہے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ صوبے کے محکموں میں تنخواہوں کے فرق کو کم کرنے کے لیے کم تنخواہ پانے والے ملازمین کو 30 فیصد ڈسپیریٹی ریڈکشن الاؤنس دیا جائے۔

گرینڈ الائنس بلوچستان کا کہنا ہے کہ ملک کے دیگر صوبوں اور وفاقی حکومت نے یہ الاؤنس اپنے ملازمین کو دے دیا ہے، تاہم بلوچستان حکومت تاحال اس پر آمادہ نہیں۔ ان کے مطابق مہنگائی کے موجودہ دور میں یہ ملازمین کا بنیادی حق ہے اور حکومت کی اپنی قائم کردہ کمیٹی بھی ڈی آر اے کے حق میں سفارشات دے چکی ہے، مگر وزیراعلیٰ بلوچستان ان پر عملدرآمد نہیں کر رہے۔