کوئٹہ: حسیبہ قمبرانی کے بھائی حسان قمبرانی کی دوسری بار جبری گمشدگی باعث تشویش ہے، فوری طور پر بازیابی کا مطالبہ کرتے ہیں۔

15

حسیبہ قمبرانی نے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے چیرمین نصراللہ بلوچ سے رابطہ کرکے بتایا، کہ رات گئے کوئٹہ کے علاقے کلی قمبرانی روڈ میں سیکورٹی فورسز نے ان کے گھر پر چھاپہ مار کر حسان قمبرانی کو حراست میں لینے کے بعد جبری طور پر لاپتہ کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ ایف سی، سی ٹی ڈی اور دیگر ملکی اداروں کے اہلکاروں نے رات گئے گھر پر چھاپہ مار کر اہلِ خانہ کو ہراساں کرنے کے بعد حسان قمبرانی کو اپنے ساتھ لے گئے۔

واضح رہے کہ حسان قمبرانی کو اس سے قبل بھی 14 فروری 2020 کو کلی قمبرانی سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا، جو 15 ماہ طویل اذیت ناک گمشدگی کے بعد 7 مئی 2021 کو بازیاب ہوئے تھے۔ اس کے باوجود آج ایک بار پھر انہیں اسی علاقے سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا۔

وی بی ایم پی کے چیرمین نصراللہ بلوچ حسان قمبرانی کی دوسری بار جبری گمشدگی پر شدید تشویش کا اظہار کیا، انہوں نے کہا کہ جبری گمشدگیاں ملکی قوانین اور شہریوں کے بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے، انہوں نے کہا کہ اگر کسی پر کوئی شک ہے، تو ملکی قوانین کے مطابق ملکی اداروں کی یہ آئینی زمہ داری ہے کہ وہ اس شخص کو گرفتاری کے بعد 24 گھنٹوں کے اندر کسی مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرے

انہوں نے کہا کہ حسان قمبرانی کو ماورائے قانون گرفتار کیاگیا ہے، اس لیے اعلی حکام کی یہ۔آئینی زمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس واقع کا فوری طور پر نوٹس لیں، جبری لاپتہ حسان قمبرانی کے لواحقین کو ملکی قوانین کے تحت انصاف فراہم کرنے میں اپنی کردار ادا کرے