کراچی کے گُل پلازہ میں لگی آگ 36 گھنٹے بعد بجھا دی گئی: کم از کم 14 ہلاکتوں کی تصدیق، درجنوں تاحال لاپتا

37

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے علاقے صدر میں واقع شاپنگ سینٹر گُل پلازہ میں سنیچر کی شب لگنے والی آگ پر اب قابو پا لیا گیا ہے جس کے بعد اب عمارت کی کولنگ کا عمل اور لاپتا افراد کی تلاش کا کام جاری ہے۔

حکام کی جانب سے اب تک اس واقعے میں کم از کم 14 افراد کی ہلاکت جبکہ درجنوں افراد کے لاپتا ہونے کی تصدیق کی گئی ہے جن کی تلاش کا کام جاری ہے۔

ہلاک ہونے والوں میں کراچی میٹرو پولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) کا ایک فائر فائٹر بھی شامل ہے۔

اتوار کی شب میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے میئر کراچی مرتضی وہاب نے بتایا کہ کولنگ کے عمل کے دوران بھی پلازے کے کچھ حصوں میں آگ کے شعلے دوبارہ بھڑک اٹھے تھے تاہم اب ریسکیو اہلکار پلازے کے اندر جانے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

اُن کے بقول تاحال 65 افراد کے لواحقین نے حکام سے رابطہ کر کے بتایا ہے کہ اُن کے پیاروں کا کچھ پتا نہیں چل رہا ہے۔

واضح رہے کہ سنیچر کی شب کراچی کے علاقے صدر میں واقع گُل پلازہ میں اچانک آگ بھڑک اُٹھی تھی جس نے دیکھتے ہی دیکھتے پورے پلازے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ اس پلازے میں جیولری، گھریلو اشیا، کمبل، قالین، بیگز، کراکری اور دیگر مصنوعات کی سینکڑوں دکانیں تھیں۔

وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے مطابق پاکستان میں شادیوں کے سیزن اور ویک اینڈ کی وجہ سے سنیچر کی شب پلازے میں بہت رش تھا، جس کی وجہ سے زیادہ نقصان ہوا ہے۔

گل پلازہ ایک تین منزلہ عمارت ہے جس میں بیسمنٹ میں موجود تھی جبکہ یہاں تقریباً ایک ہزار سے زائد چھوٹی بڑی دکانیں تھیں۔

مراد علی شاہ کے مطابق ابتدا میں ’فائر فائٹرز کو اندر جانے کی جگہ نہیں مل رہی تھی، جس کی وجہ سے نقصانات میں اضافہ ہوا۔‘

انسپکٹر جنرل سندھ پولیس جاوید عالم اوڈھو کے مطابق ایسا لگتا ہے کہ یہ آگ سرکٹ بریکر کی وجہ سے بھڑکی تاہم اس بارے میں فی الحال حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔