پچیس جنوری صرف ایک دن نہیں، مکمل تاریخ – سلطانہ بلوچ

35

پچیس جنوری صرف ایک دن نہیں، مکمل تاریخ

تحریر : سلطانہ بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

25 جنوری صرف دو الفاظ کا مجموعہ نہیں ہے۔ان دو لفظوں میں چھپا بلوچ قوم کے اوپر دہائیوں کا جبر، بربریت اور اذیتیں ہیں۔
یہ کئی دہائیوں کی ظلم و بربریت بلوچ قوم کی یادداشت سے کبھی بھی نہیں مٹ سکتی۔ یہ تاریخ کا وہ سیاہ باب ہے جس میں بلوچ قوم نے جبری گمشدگیوں اور تاریک زندانوں میں اذیتیں سہی ہیں ، ماوراۓ عدالت قتل ہوتے دیکھے ہیں اور بلوچ سرزمین کے میدانوں کو بلوچ نوجوانوں کی مسخ شدہ لاشیں اگلتی دیکھی ہے اور بلوچ والدین کے بوڑھے کمزور کندھوں مگر بلند حوصلوں کو اپنے جوان بیٹوں کی جنازوں کو اٹھاتے کندھا دیتے دیکھا ہے ۔

جبری گمشدگیوں کا مسئلہ بلوچستان میں اس حد تک سنگین ہوتا جارہا ہے کہ سماجی اقدار چادر و چار دیواری کی عزت کو پامال کرتے اور قانون کو پاؤں تلے روندتے ہوئے رات کے تاریکی میں بلوچ خواتین کو جبری لاپتہ کیا جارہا ہے ۔ وہ مائیں جو اپنے بیٹوں کی تصویروں کو اٹھا کر سڑکوں پر سراپا احتجاج ہیں۔ان ہی ماؤں کے فرزندوں کو اس ریاست نے عرصے تک جبری لاپتہ کرنے زندانوں کی تاریک کونوں میں ڈال کر بعد میں جعلی مقابلے کا نام دے کر شہید کردیا ہے بلوچ نسل کشی کا ایک ایسا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو چکا ہے کہ ہمارے پڑھے لکھے بلوچ نوجوان طبقے کو گلیوں میں، دکانوں کے سامنے یا کسی کھیل کے میدان میں اسی ریاست کے ہاتھوں بنے ہوۓ ڈیتھ سکواڈ کے ذریعے مار دیا جاتا ہے۔

ضلع مستونگ کا ایک ایسا واقعہ کہ ایک بلوچ نوجوان کو جبری لاپتہ کیا جاتا ہے۔ رمضان کا پورا مہینہ اس کی ماں، بہن اور خاندان کے باقی لوگ اس کی باحفاظت بازیابی کے دعا مانگتے رہے کہ ہمارا بچہ باحفاظت بازیاب ہوجائیں۔ لیکن اسی ظالم ریاست نے اسی خاندان کو چاند رات کو تحفے میں ان کی بیٹے کی لاش دی جس پر تشدد کرکے سینے پہ ڈریل مشین سے لکھا گیا تھا تحفہ بلوچستان۔
ہم کیسے بھولیں گے اس ظلم کو ، اس بربریت کو اس بلوچ نسل کشی کو۔ ہمارے آنے والی ہر نسل تمھارے اس ظلم کو ان زخموں کو یاد رکھے گی۔

آۓ روز بلوچستان میں ہر بلوچ کے گھر میں ایک ماتم تازہ ہوتا ہے کیونکہ کوئی ایسا دن نہیں کہ کوئی بلوچ نوجوان جبری لاپتہ نہ کیا گیا ہو۔کوئی ایسی رات نہیں گزرتی کہ کسی بلوچ ماں کو اس ظالم ریاست نے بےبسی اور خون کے آنسو نہیں رلایا ہو۔نہ ہم توتک میں سینکڑوں نوجوانوں کی اجتماعی قپروں کو بھولیں گے نہ دشت میں نامعلوم قبرستان کو۔کیونکہ وہی اجتماعی قبریں بھی توتک سے دریافت ہونے والے بلوچوں کے ہیں اور دشت میں نامعلوم قبرستان بھی ان ہی بلوچوں کی ہیں۔کتنے بلوچ نوجوانوں کی لاشوں کو مسخ کرکے تو نے ویرانوں میں پھینک دیا ہے ۔

ایک اور واقعہ جو کہ اسپلینجی میں کچھ پہلے رونما ہوا تھا ایک بلوچ نوجوان کو شہید کرنے کے بعد اس کے خاندان کو دینے کے مکمل انکار کر دیا پھر اسی ریاست کے فوج نے اس لاش کو سڑک پہ رکھ اسے اوپر سے بلڈوزر گزارتا رہا ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ہم پر کس طرح کی ظلم کی روا رکھی جا رہی ہے۔

ایک جیتے جاگتے زندگی کو وہ لاش میں بدل نہ اس قابل چھوڑتے ہیں کہ وہ غسل کے قابل ہو نہ کفن دیا جاتا ہے اور اس قابل کہ دیدار کیا جا سکے اس صورت میں بھی اگر یہ توقع رکھا جائے کہ ریاست کے ہاتھوں خاتمے کی حد تک لے جائی جانے والی قوم چھپ رہے گی اس ظلم و بربریت اور نسل کشی کے خلاف آواز نہیں اٹھائے گی ریاست نے ظلم و بربریت کر کے بلوچ قوم کو اس مقام پر لا کھڑا کیا ہے جہاں مزاحمت فرض نماز کی طرح ایک عبادت بن جاتی ہے ۔

بلوچ نسل کشی کے لئے صرف ایک واحد حربہ نہیں بلکہ قوم کو ختم کرنے اور وسائل کو ہمیشہ کے لیے قبضہ اور دسترس میں رکھنے کے لیے مختلف حربے اور ہتھکنڈے استعمال کیے جا رہے ہیں آپ سالانہ بلوچستان میں خودکشی کے تناسب کو اٹھا کر دیکھ لیں یہ وہی بلوچ نوجوان ہیں جو بے روزگاری سے تنگ آکر اپنے گلے میں پھانسی کا پھندا ڈال کر یا زہر کا ایک گلاس پی کے اپنی زندگی کا خاتمہ کرتے ہیں انھیں زندگی سے بد دل کرنے والا اور مایوسی کی اتاہ گہرائیوں میں دھکیلنے والا کون ہے؟ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اپنی ہی زمین پر بلوچ کو جینے کا حق حاصل نہیں ہے ؟

زندگی کے تمام بنیادی سہولیات سے محروم بلوچوں کو انہی کی سرزمین پر اتنا تنگ کیا جارہا ہے کہ ان کے پاس قومی بقاء کے لیے مزاحمت کے علاوہ کوئی رستہ دکھائی نہیں دیتا ۔

ہماری ہی زمین پر ہماری شناخت کو مسخ کرنے کے لیے ہمیں دبایا جارہا ہے ہماری احتجاجی آوازوں کو طاقت کے زور پر خاموش کرنے کے لیے ہر ہتھکنڈا استمال کیا جارہا ہے ۔

میں سمجھتی ہوں کہ یہ مزاحمت ہماری شناخت کی ہے یہ مزاحمت ہماری بقاء کی ہے یہ مزاحمت ہماری آنے والی نسلوں کی ہے ۔ہماری اسی مزاحمت میں ہماری زندگی ہے بلوچ قومی شناخت اور قومی بقاء کے لیے مزاحمت ہم بلوچوں پر فرض ہو چکی ہے ۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔