بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جیئند بلوچ نے میڈیا کو جاری بیان میں کہا ہے کہ سرمچاروں نے پنجگور میں قابض پاکستانی فوج کے اہم کارندے زاہد محمد حسین کو ایک حملے میں ہلاک کردیا۔ مستونگ میں سرمچاروں نے قابض پاکستانی فوج کے اہلکاروں کو حملے میں نشانہ بنایا۔
ترجمان نے کہاکہ بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے یکم جنوری کی شب پنجگور کے علاقے کاٹاگری میں قابض پاکستانی فوج و خفیہ اداروں کی تشکیل کردہ نام نہاد ڈیتھ اسکواڈ کے اہم کارندے زاہد محمد حسین کو اس کے ٹھکانے میں نشانہ بناکر ہلاک کردیا۔ سرمچاروں نے کارندے کا اسلحہ بھی ضبط کرلیا۔
انہوں نے کہاکہ زاہد قابض پاکستانی فوج کی سرپرستی میں کافی عرصے سے مسلح جھتے کی سربراہی کررہا تھا جو گھروں کی چادر و چار دیواری کی پامالی، نوجوانوں کی جبری گمشدگی میں قابض فوج کی معاونت میں براہ راست ملوث تھا۔ یہ جھتہ زاہد کی سرپرستی میں فوجی جارحیتوں میں قابض فوج کی سہولت کاری سمیت پنجگور میں نوجوانوں کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث رہا ہے۔ مزید برآں اس جھتے کو قابض فوج نے علاقے میں چوری، ڈکیتی اور منشیات فروشی سمیت معاشرتی برائیوں کی کھلی چھوٹ دی تھی۔
ترجمان نے کہاکہ بلوچ عوام پر مظالم اور قومی تحریک کے خلاف اعمال پر آلہ کار زاہد حسین بلوچ لبریشن آرمی کے ہٹ لسٹ پر تھا۔ سرمچاروں نے آلہ کار کو ہلاک کرکے اس کے منطقی انجام تک پہنچایا۔
مزید کہاکہ بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے اٹھائیس دسمبر کو مستونگ کے علاقے اسپلنجی مَرو میں قابض پاکستانی فوج کے پیدل اہلکاروں کو اس وقت ایک حملے میں نشانہ بنایا جب وہ علاقے میں پیش قدمی کی کوشش کررہے تھیں، حملے میں قابض فوج کو جانی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا جبکہ سرمچاروں نے قابض فوج کے ایک کواڈ کاپٹر کو مار گرایا۔
آخر میں کہاکہ بلوچ لبریشن آرمی ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔ قابض پاکستانی فوج اور اس کے شراکت داروں پر ہمارے حملے جاری رہیں گے۔
















































