بلوچ یکجہتی کمیٹی نے کہا ہے کہ 21 جنوری 2026 کو پاکستانی ریاستی سرپرستی میں سرگرم مسلح ڈیتھ اسکواڈز نے طاہر بلوچ کو ماورائے عدالت قتل کر دیا۔
بیان کے مطابق طاہر بلوچ ایک نہایت غریب خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور روزانہ کی بنیاد پر مزدوری کر کے اپنے خاندان کی کفالت کرتے تھے۔ عینی شاہدین کے مطابق، پاکستانی مسلح اداروں کی پشت پناہی سے قائم مقامی ملیشیاؤں نے کوشکلات، تمپ کے علاقے میں طاہر بلوچ پر براہِ راست فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئے۔
عینی گواہوں کا کہنا ہے کہ مسلح افراد نے طاہر بلوچ کو نشانہ بنا کر فائر کھولا اور انہیں بچنے کا کوئی موقع نہیں دیا۔ یہ ایک واضح اور سوچا سمجھا ماورائے عدالت قتل تھا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اندوہناک واقعہ بلوچستان میں جاری ریاستی جبر اور تشدد کی اُس وسیع تر پالیسی کا حصہ ہے، جس کے تحت بلوچ نوجوانوں، طلبہ اور عام شہریوں کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ایسے ماورائے عدالت قتل نہ صرف بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہیں بلکہ بلوچستان میں خوف اور عدم تحفظ کی فضا کو مزید گہرا کر رہے ہیں۔
مزید کہا گیا ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں، اقوامِ متحدہ اور بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ طاہر بلوچ کے ماورائے عدالت قتل کا فوری نوٹس لیں، شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کو یقینی بنائیں، اور بلوچستان میں جاری ریاستی سرپرستی میں ہونے والے قتلِ عام کو روکنے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

















































