وی بی ایم پی کے احتجاج کا آج 6042ویں روز، نسرینہ سمیت تمام جبری لاپتہ بلوچ خواتین کی بازیابی کا مطالبہ

34

بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے زیر اہتمام قائم احتجاجی کیمپ کو تنظیم کے چیرمین نصراللہ بلوچ کی قیادت میں کوئٹہ پریس کلب کے سامنے 6042 دن مکمل ہوگئے۔

اس موقع پر مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے احتجاجی کیمپ کا دورہ کیا، اور لاپتہ افراد کے لواحقین سے اظہار یکجہتی کی، انہوں نے لاپتہ افراد بالخصوص جبری لاپتہ بلوچ خواتین کی فوری طور پر بازیابی کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔

اس دوران نسرینہ بلوچ کے لواحقین نے احتجاج میں شرکت کی، اور اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا، انہوں نے انٹرنشنل میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ نسرینہ کو گزشتہ سال 22 نومبر کو حب چوکی سے سیکورٹی فورسز نے غیر قانونی طریقے سے حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔

انہوں نے کہا کہ وہ نسرینہ کی جبری گمشدگی کی ایف آئی آر درج کرنے متعلقہ تھانہ گئے، لیکن ایس ایچ او نے انکا رپورٹ درج نہیں کیا، وہ پریس کانفرنس کرنے حب پریس کلب گئے، لیکن انتظامیہ نے پریس کلب کی تالہ بندی کرکے انہیں پریس کانفرنس اور احتجاج کرنے کی اجازت نہیں دی، اسلیے وہ مجبور ہوکر کوئٹہ آئے ہوئے ہیں اور چار دنوں سے وہ وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے احتجاجی کیمپ میں اپنا احتجاج ریکارڈ کرارہے ہیں تاکہ اعلی حکام ان کے احتجاج کا نوٹس لیں اور ملکی قوانین کے تحت انہیں انصاف فراہم کرنے میں اپنی کردار ادا کرے۔

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیرمین نصراللہ نے اس موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی ادارے ملکی سلامتی کے نام پر ملکی قوانین اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہوئے بلوچستان کے مختلف علاقوں سے تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے افراد کی جبری گمشدگیوں میں تیزی لائی ہے، اب تو بلوچ خواتین کو جبری لاپتہ کررہے ہیں، گرفتار افراد کو نہ کسی عدالت میں پیش کیا جارہا ہے، اور نہ ہی ان کے حوالے سے ان کے لواحقین کو معلومات فراہم کیا جارہا ہے، جسکی وجہ سے ہزاروں خاندان کرب و اذیت میں زندگی گزار رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ان ماورائے اقدامات کے خلاف انصاف کے فراہمی کے لیے بنائے گئے ادارے اپنا کردار ادا کررہے ہیں اور نہ ہی حکومت اپنی آئینی کردار ادا کررہے ہیں، بلکہ حکومتی سطح پر جبری گمشدگیوں کے حوالے سے اسے ایکٹ منظور کیے جارہے ہیں، جس سے تو جبری گمشدگیوں کا مسلہ حل نہیں ہورہا ہے بلکہ ملکی اداروں کے ماورائے قانون اقدامات کو تحفظ فراہم کیا جاتا ہے۔

چیرمین نصراللہ بلوچ نے مزید کہا کہ بین الاقوامی سطح پر بھی ان ماورائے قانون اقدامات کے روک تھام کے حوالے سے آج تک عملی اقدامات اٹھائے نہیں جارہے ہیں، جسکی وجہ سے بلوچستان میں روز بروز انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ریاستی ادارے تیزی لارہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ انصاف کے بنائے گئے ملکی اور بین الاقوامی اداروں کی آئینی اور اخلاقی زمہ داری ہے کہ وہ ماورائے قانون اقدامات، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، جبری گمشدگیوں بالخصوس بلوچ خواتین کی جبری گمشدگیوں کی روک تھام اور لاپتہ افراد کی بازیابی کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات اٹھائیں۔