بلوچ یکجہتی کمیٹی کے اسیر سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی بہن نادیہ بلوچ نے کہا ہے کہ ریاست بلوچ قوم کے خلاف میڈیا کو مربوط اور منصوبہ بند طریقے سے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے، جہاں ایک جانب بلوچ نوجوانوں اور خواتین کی جبری گمشدگیوں میں تیزی آ چکی ہے، وہیں دوسری جانب میڈیا کے ذریعے بلوچستان میں انسانی حقوق کی جدوجہد اور طلبہ تنظیموں کے خلاف من گھڑت اور بے بنیاد بیانیہ سازی کی جا رہی ہے تاکہ ان کی آواز کو دبایا جا سکے۔
نادیہ بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں میڈیا بلیک آؤٹ اور سنسرشپ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ریاستی بربریت کو جواز فراہم کرنے کے لیے مین اسٹریم میڈیا کو دانستہ طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، جبکہ بلوچ عوام کی حقیقی صورتحال کو مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مین اسٹریم میڈیا کی سنسرشپ کے بعد اب بلوچ سوشل ایکٹیوسٹوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے، جو ایک نہایت سنگین اور تشویشناک صورتحال ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ میڈیا کے ذریعے ایک منظم ڈس انفارمیشن کیمپین چلائی جا رہی ہے جس کا مقصد بلوچستان میں جاری ریاستی جبر، جبری گمشدگیوں اور دیگر سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو چھپانا اور عالمی برادری کو گمراہ کرنا ہے۔
نادیہ بلوچ نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ حالات میں بلوچ عوام اور انسانی حقوق کے کارکنوں کو اپنی آواز مزید مؤثر طریقے سے میڈیا کے ذریعے بلند کرنا ہو گی تاکہ عالمی ادارے، اقوامِ متحدہ اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں بلوچ قوم پر ہونے والی سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے باخبر رہیں اور خاموش تماشائی نہ بنیں۔


















































