ریاستی ایجنٹ میرجان کو ہلاک کرنے کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ بی ایل ایف

107

 
بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ بی ایل ایف کے انٹیلی جنس ونگ کی دی ہوئی معلومات پر کارروائی کرتے ہوئے یکم جنوری 2026 کو سرمچاروں نے سوراب کے علاقہ ماراپ سے ریاستی ایجنٹ میرجان ولد بھائی خان سکنہ ماراپ، سوراب کو حراست میں لیا۔ دورانِ حراست ریاستی ایجنٹ نے اپنے جرائم کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ 25 دسمبر 2025 کو قلات، پارود میں تنظیمی کیمپ پر ڈرون حملے کیلئے اسی نے ڈرون چپ کیمپ میں چُھپا رکھا تھا۔ اس حملے میں تنظیم کے پانچ ساتھی سرمچار شہید ہوگئے تھے۔
 
انہوں نے کہا کہ ریاستی ایجنٹ میرجان نے دورانِ تفتیش خود اعتراف کیا کہ وہ پچھلے ایک سال سے دشمن کیلئے جاسوسی کررہا تھا۔ میر جان نے دوران تفتیش بتایا کہ وہ ریاستی ڈیتھ اسکواڈ کے سربراہ اور پاکستانی فوج کے کہنے پر تنظیمی کیمپ تک رسائی اور جاسوسی کے لیے تنظیم جوائن کرنے کا بہانہ بناکر کیمپ آگیا تھا۔
 
ترجمان نے کہا کہ کچھ عرصہ قبل میرجان نے اپنے مشن کی تکمیل کے لیے بی ایل ایف کے ساتھی سے رابطہ کیا تنظیم میں شامل ہونے کا کہا بنیادی جانچ پڑتال کے بعد اسے ٹریننگ کیمپ منتقل کیا گیا لیکن وہاں تنظیمی اور گوریلا اصولوں کی پابندی نہ کرنے کے سبب اسے کیمپ سے خارج کر دیا گیا ۔ تاہم بحیثیت بلوچ اس کے ساتھ نرم برتاؤ کرکے اسے اس یقین دہانی پر چھوڑ دیا کہ وہ بلوچ قومی تحریکِ آزادی کے خلاف کسی بھی سرگرمی میں شامل نہیں ہوگا۔ لیکن ریاستی ایجنٹ میرجان نے اس دوران موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ٹریننگ کیمپ میں ڈرون چِپ چھپائی اور اس کی جانے کے تین دن بعد کیمپ پر ڈرون حملہ ہوا جس میں تنظیم کے ٹریننگ کمانڈر شہید عبدالاحد عرف گزین بلوچ سمیت چار ساتھی شہید ہوگئے۔
 
ترجمان نے کہا کہ ایجنٹ میرجان کی اپنے قومی جرائم کے اعترافی بیان کا ویڈیو فوٹیج تنظیم کے پاس محفوظ ہے، جسے جلد تنظیم کے آفیشل میڈیا چینل پر شائع کیا جائے گا۔
 
انہوں نے کہا کہ بی ایل ایف قلات، پارود میں تنظیمی کیمپ پر ڈرون حملہ کروانے اور پانچ ساتھیوں کی شہادت کے مجرم ریاستی ایجنٹ میرجان ولد بھائی خان کے ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔