بلوچستان کے علاقے تحصیل دشت کے گاؤں شولیگ میں آج صبح پاکستانی فورسز نے آپریشن کرتے ہوئے گھر گھر تلاشی لی۔ اس دوران تشدد، گالم گلوچ اور شدید ذہنی دباؤ کے باعث ایک شخص صدمہ برداشت نہ کر سکا اور جان کی بازی ہار گیا۔
علاقائی ذرائع کے مطابق، آپریشن کے دوران فورسز نے تین افراد کو حراست میں لے لیا، جنہیں بعد ازاں رہا کر دیا گیا۔ تاہم آپریشن کے دوران کونسلر چیئرمین جام خداداد پر فورسز کی جانب سے شدید دباؤ اور سخت رویہ اپنایا گیا، جس کے باعث وہ دلبرداشتہ ہو کر موقع پر ہی انتقال کر گئے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ فورسز نے جام خداداد سے تلخ کلامی کی اور بلوچ سرمچاروں کے بارے میں سوالات کیے۔ اس پر جام خداداد نے جواب دیا کہ وہ یہاں موجود نہیں ہیں، اگر کسی کو پکڑنا یا مارنا ہے تو پہاڑوں میں جا کر تلاش کریں، گاؤں کے لوگوں کو ہراساں کرنے سے کیا حاصل ہوگا۔ اسی دوران وہ زمین پر گر پڑے اور جانبر نہ ہو سکے۔
بعد ازاں فورسز نے گاؤں کے تمام گھروں کی تلاشی لی اور تین افراد کو حراست میں لے کر اپنے ساتھ لے گئے، جنہیں بعد میں رہا کر دیا گیا۔
علاقائی ذرائع کے مطابق، جام خداداد فورسز کے شدید ذہنی دباؤ کو برداشت نہ کر سکے اور اسی باعث انتقال کر گئے۔

















































