حب: پاکستانی فورسز کے ہاتھوں ایک اور بلوچ خاتون جبری طور پر لاپتہ

118

بلوچستان کے صنعتی شہر حب سے پاکستانی فورسز نے ایک اور بلوچ خاتون کو حراست میں لے کر جبری طور پر لاپتہ کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق فاطمہ زوجہ نوروز اسلام، سکنہ پنجگور، کو پاکستانی فورسز نے اکرم کالونی میں واقع ان کے گھر سے حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔

واضح رہے کہ خاتون کے شوہر نوروز اسلام اس سے قبل تین مرتبہ پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری گمشدگی کا شکار رہ چکے ہیں، جس سے خاندان کو مسلسل ریاستی جبر اور ذہنی اذیت کا سامنا ہے۔

یاد رہے کہ 22 نومبر اور دسمبر 2025 کو بھی آواران کی رہائشی نسرینہ بلوچ بنت دلاور اور ہاجرہ نامی خاتون کو حب چوکی سے پاکستانی فورسز نے جبری طور پر لاپتہ کیا تھا۔

دوسری جانب بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کی جانب سے آج شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق، سال 2025 کے دوران بلوچستان کے مختلف اضلاع میں کم از کم 12 بلوچ خواتین اور بچیوں کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا۔

بی وائی سی کے مطابق یہ واقعات کسی انفرادی یا اتفاقی نوعیت کے نہیں بلکہ ایک منظم ریاستی جبر کی نشاندہی کرتے ہیں، جس میں جبری گمشدگی کو بطور اجتماعی سزا استعمال کیا جا رہا ہے۔