حب: جبری لاپتہ جنید و یاسر حمید ایک سال بعد بھی بازیاب نہیں ہوسکیں

21

حب کے رہائشی بھائیوں جنید حمید اور یاسر حمید کے جبری گمشدگی کو ایک سال کا زائد عرصے گذرنے کے باوجود ان کی بازیابی ممکن نہیں ہوسکی۔

 جنید حمید اور یاسر حمید، دونوں بھائی اکتوبر 2024 میں پاکستانی فورسز کے ہاتھوں حب چوکی اور قلات سے جبری گمشدگی کا شکار ہوئے تھے۔ ان کے اہلخانہ کی جانب سے پریس کانفرنسز، مرکزی شاہراہ پر دھرنوں سمیت حب، کوئٹہ اور اسلام آباد میں احتجاجی مظاہرے کیئے گئے۔

احتجاجی دھرنوں کے دوران دو مرتبہ حکام نے اہلخانہ کو نوجوانوں کی بازیابی کے حوالے سے یقین دہانی کرائی اور اس حوالے سے معاہدوں پر دستخط کیئے گئے تاہم تاحال دونوں نوجوان بازیاب نہیں ہوسکے ہیں۔

نوجوانوں کی بازیابی کیلئے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر بھی آگاہی مہم چلائی گئی جس میں سماجی و سیاسی کارکنان حصہ لیتے ہوئے ان کی بازیابی کا مطالبہ کیا۔ دونوں نوجوانوں کی جبری گمشدگی کو ایک سال سے زائد کا عرصہ ہوچکا ہے تاہم ان کی بازیابی تاحال ممکن نہیں ہوسکی ہے جس کے باعث اہلخانہ میں تشویش پائی جاتی ہے۔

بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے واقعات دو دہائیوں کے زائد عرصے سے جاری ہے۔ ان جبری گمشدگیوں کے واقعات سمیت جعلی مقابلوں میں لاپتہ افراد کے قتل کے واقعات میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ان واقعات پر انسانی حقوق کی تنظیمیں تشویش کا اظہار کرتے ہیں جبکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی سمیت دیگر تنظیمیں جبری گمشدگیوں، جعلی مقابلوں و دیگر انسانی حقوق کیلئے آواز اٹھاتی رہی ہے۔