جبری گمشدگیاں اور بلوچ خواتین کی ناقابلِ شکست جدوجہد – گل زادی بلوچ

8

جبری گمشدگیاں اور بلوچ خواتین کی ناقابلِ شکست جدوجہد

تحریر: گل زادی بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

بلوچ خواتین کی جبری گمشدگی کا کسی اتفاقی سانحے کا نتیجہ نہیں بلکہ ریاست کی ایک منظم اور سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ ہے، جس کے ذریعے بلوچ قومی اقدار، روایات، ثقافت اور قومی حقوق کی جدوجہد کو براہِ راست نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ درحقیقت ریاست بلوچ خواتین کی فکری، عملی اور شعوری شمولیت سے شدید خوفزدہ ہے۔ اسی خوف کے تحت وہ بلوچ عورت کو اس کی قومی شناخت کی جدوجہد اور اس کے تاریخی و سماجی کردار سے دور کرنے، اسے پسِ پشت ڈالنے اور خاموش کرانے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔ ریاست بخوبی جانتی ہے کہ جب ایک عورت شعوری طور پر اپنی قوم کے لیے قربانی دینے کا حوصلہ اور عزم رکھتی ہے تو وہ صرف اپنی ذات تک محدود نہیں رہتی، بلکہ وہ آنے والی نسلوں کے اذہان کو بیداری، شعور اور مضبوط قومی جذبے سے آراستہ کر دیتی ہے۔

اب نہایت غور و فکر کی بات یہ ہے کہ بلوچ عورت نے گھریلو زندگی کی محدود فضا سے نکل کر قومی شناخت کی جدوجہد تک کا سفر کیسے طے کیا؟ ایک خاندان کی دیکھ بھال اور پرورش سے لے کر قومی خدمت تک وہ کن مراحل سے گزری؟ آخر وہ کون سے حالات اور محرکات تھے جنہوں نے ایک بلوچ عورت کو، چاہے وہ ماں ہو، بیٹی، بیوی یا بہن، اس مقام تک پہنچایا کہ وہ ہر صورت اپنے بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہو کر اپنی پوری زندگی بلوچ قومی تحریک اور اپنی قوم کے لیے قربان کرنے پر آمادہ ہے؟ اور سب سے زیادہ تکلیف دہ سوال یہ ہے کہ گزشتہ چھ ماہ سے ایک بلوچ بیٹی، ماہ جبین، پاکستان کے ٹارچر سیل میں تشدد، تذلیل اور ہزاروں دیگر اذیتوں کے باوجود کس طرح زندہ رہنے کی جدوجہد کر رہی ہے؟

درحقیقت کسی بھی معاشرے کا ارتقائی عمل مسلسل اور متواتر عوامل کے زیرِ اثر آگے بڑھتا ہے، جن میں معاشی عوامل افراد اور اداروں کے باہمی تعلقات، سیاسی تبدیلیاں اور سماجی اقدار جیسے عناصر شامل ہوتے ہیں۔ میرے خیال میں بلوچ معاشرے اور اس کے ارتقائی عمل کی نمائندگی اور تشریح کے لیے محض ایک جملہ ہی کافی ہے: یہ ریاست کے جبر اور تشدد کا مسلسل دہرایا جانے والا عمل ہے۔ اس میں جبری گمشدگی، اجتماعی سزا، اور سب سے سنگین اور غیر انسانی عمل یعنی ماورائے آئین قتل شامل ہیں، جن میں بلوچ لاپتہ افراد کو شہید کرنے کے بعد لاشوں کو مسخ کر کے بےحرمتی کے ساتھ لاوارث قرار دیا جاتا ہے۔ اسی طرح فوجی آپریشنز اور ائیر اسٹرائیک کے ذریعے بلوچستان کے گاؤں اور قصبے تباہ کئے جاتے ہیں، جبری بے دخلی کی جاتی ہے، اور فوجی آپریشنز میں بلوچ خواتین اور بچیوں کی عصمت دری جیسے جابرانہ اقدامات معمول بن چکے ہیں۔

پچھلے سات دہائیوں سے بلوچ معاشرے پر ایسی غیر انسانی اور غیر قانونی پالیسیاں نافذ کی گئی ہیں، جن کے نتیجے میں بلوچ نسل کشی کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ اس ارتقائی عمل میں بلوچ خواتین نے نہ صرف ریاستی جبر کو نزدیک سے محسوس کیا بلکہ اسے سہنے کے ساتھ ساتھ اس کے خلاف مزاحمت بھی کی۔ ایک عورت، جو برسوں اپنے خوشحال خاندان کے ساتھ زندگی گزار رہی تھی، آج ریاستی فوج کے ظلم کے سامنے سڑکوں پر کھڑی ہے۔ وہ عورت آج تجابان (کیچ) کی سڑکوں پر صبح و شام گزشتہ احتجاجی دھرنے پر بیٹھ کر مزاحمت کا استعارہ بنی ہوئی ہے۔ اس مظلوم ماں نے گزرتے سال کا آخری غروبِ آفتاب اپنے غموں کے بوجھ تلے دیکھا، اور اسی سڑک پر نئے سال کی پہلی کرن کو نئے عزم اور جذبے کے ساتھ استقبال کیا مگر اربابِ اختیار امن کے دعویداروں میں سے کسی نے اس ماں سے سڑک پر دھرنے کا سبب تک پوچھنا گوارہ نہ سمجھا۔

معاشرہ ہمیشہ انصاف، مساوات اور انسانی وقار کی بنیاد پر ہی امن اور خوشحالی کی طرف بڑھتا اور مستحکم ہوتا ہے۔ کسی بھی ریاست کے لیے اپنے عوام کو سیاسی، جمہوری، انسانی اور بنیادی حقوق کی فراہمی اولین ترجیح ہونی چاہیے، کیونکہ ان کے بغیر کوئی بھی معاشرہ ترقی اور فلاح کے قابل نہیں ہوتا۔

بدقسمتی سے بلوچستان دنیا کا وہ خطہ ہے جہاں جمہوریت، قانون اور انصاف کے اصول معطل ہیں اور طاقت کا محور صرف ایک ادارے تک محدود ہے۔

قانون نافذ کرنے والے ادارے آج مجرم کے محافظ بن چکے ہیں۔ یہ وہی ادارے ہیں جو مجرم کی وکالت کرتے ہیں اور بے گناہ کی گردن پکڑ کر اسے سزا دیتے ہیں۔ عدلیہ بھی اپنے فیصلے سازی میں مقتول کے لہو سے اپنے قلم کی نوک تر کرتی ہے اور قاتل کو باعزت بری کر کے انصاف اور عدلیہ کی آزادی کا ڈھونگ رچاتی ہے۔ پاکستانی قانون کا دوغلا پن اپنی انتہا پر ہے: مظلوم کے اپنے حقوق کے لیے اٹھائے جانے والے ہر آواز کو دہشت گردی، غداری یا غیر ملکی ایجنٹ جیسے الزامات کے تحت دبا دیا جاتا ہے، جبکہ جابر کو مزید جبر کے لیے آئینی ترامیم جیسی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ جمہوریت بذاتِ خود مظلوم کے لیے تو وجود نہیں رکھتی ہے، مگر یہاں یہ اشرافیہ اور ڈکٹیٹر کے لیے ڈھال کا کردار ادا کرتی ہے۔ ریاستی میڈیا ریاستی جبر کا سب سے بڑا آلہ کار بن چکا ہے۔ یہ میڈیا بلوچ مخالف اور بلوچ نسل کش پالیسیوں کو جواز فراہم کرنے کے لیے صفِ اول میں بیان بازی کرتا ہے۔ اگرچہ بعض حد تک میڈیا جمہوریت کے محافظ کا کردار ادا کرتا نظر آتا ہے، لیکن پاکستانی مین اسٹریم میڈیا آج محض طاقت کے منبع کا ترجمان بن چکا ہے، جو چند روپوں کے عوض اپنی ذمہ داری اور قومی فرائض پر سمجھوتہ کر لیتا ہے۔

ڈیجیٹل میڈیا بلوچ خواتین، چاہے سیاسی ہوں یا غیر سیاسی، کی کردار کشی اور بلوچ نسل کشی پر پروپیگنڈہ پھیلا رہی ہے، جس کی کوئی حدبندی نہیں۔ پرنٹ میڈیا کی حالت بھی کچھ بہتر نہیں: پہلے صفحے سے لے کر آخر تک بلوچستان کے کسی حقیقی مسئلے پر ایک سطر بھی نظر نہیں آتی، اور صحافت کے نام پر کام کرنے والے افراد چند اشتہارات کے عوض اپنے قلم کی قدر و قیمت کو فراموش کر چکے ہیں۔ ریاستی بیانیہ اور بلوچ کی حقیقی زندگی کے درمیان تضاد اس حد تک شدید ہے کہ ترقی کے نام پر بلوچستان کے قدرتی وسائل کے بدلے میں جو “ترقی” دی جاتی ہے، دراصل وہ ہماری زمین بلوچ فرزندوں کی لاشیں اگلتی ہے۔ خوشحالی کے معنی ہر روز کسی کے گھر کے ایک فرد کے جبری گمشدہ ہونے سے ملتے ہیں۔ امن کے نام پر بلوچ کو اس کی زمین سے جبری بے دخل کیا جاتا ہے اور ریاست اپنے ہی عدم استحکام کو طول دیتی ہے۔

کچھ سال قبل ریاست بلوچ مردوں کو جبری طور پر لاپتہ کرکے متاثرہ گھر کی خواتین کو کمزور سمجھ کر چھوڑ دیتی تھی، مگر بلوچ خواتین نے بے بسی یا کمزوری کی علامت بننے کے بجائے قومی مزاحمت کو ترجیح دی۔ انہوں نے اپنے لاپتہ پیاروں کی بازیابی کے لیے تھانہ، عدالت، کچہری اور کمیشنز سب کے چکر لگائے، مگر جب کہیں امید نہ ملی تو انہوں نے سڑکوں کا رخ کیا۔ یہاں سے بلوچ عورت ریاست کے جبر کے خلاف ایک نڈر سیاسی کارکن کے طور پر ابھر کر سامنے آئی۔ ایک فرد کی انفرادی آواز بتدریج اجتماعی جدوجہد میں تبدیل ہوئی۔ وقت نے آہستہ آہستہ زخم بھرنے شروع کیے اور پھر ایک فرد کے نعرے نے بلوچ نسل کشی کے خلاف اجتماعی تحریک کو جنم دیا۔ ایک سوال نے قومی شناخت کی جدوجہد کی شکل اختیار کی اور سڑکوں کے اجتماعات نے راجی مچی کو تشکیل دیا۔ لانگ مارچ نے طویل مشکلات اور رکاوٹیں عبور کیں، جہاں عوام کے جم غفیر نے ظالم اور مظلوم کے درمیان لکیر کھینچی اور بلوچ خواتین کے کردار کو تاریخ میں نمایاں الفاظ میں جگہ دی۔ بظاہر یہ سفر آسان نہ تھا، اور اس تحریک کو بلوچستان کے ہر گھر تک پہنچانا بھی سہل نہ تھا، مگر بلوچ خواتین نے اپنے قومی شعور اور سیاسی بصیرت کو بروئے کار لاتے ہوئے تمام تر مشکلات کو عبور کیا اور بلوچ قومی تحریک میں مرکزی کردار ادا کیا۔ لانگ مارچ کے آغاز پر ان کے ہاتھوں میں اپنے پیاروں کی تصاویر تھیں، مگر اقتدار کے ایوانوں تک پہنچتے پہنچتے بلوچ ماؤں اور بیٹیوں نے ذاتی مفادات پر قومی سوال کو ترجیح دی اور اپنی جنس کو کبھی کمزوری بننے نہ دیا۔

یہ ریاستی جبر ہی ہے جس نے بلوچ عورت کو اس حد تک مضبوط بنایا کہ وہ ماں، جس کے بیٹے کو ریاستی فوج نے بے دردی سے قتل کیا، اپنے اس جوان بیٹے کی لاش کو بھی قومی تحریک کے نام کرنے پر آمادہ ہے، اور اس کی آخری رسومات بھی بلوچ قومی ترانوں اور نظموں کے ساتھ ادا کرتی ہے۔

بلوچ خواتین کے سیاسی اور قومی شعور سے خوفزدہ ریاست نے اب انہیں بھی جبری گمشدگی کا نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے، جو ریاستی پالیسیوں کی ناکامی کا واضح ثبوت ہے۔ مگر وہ گمشدہ بلوچ بیٹی آج بھی ٹارچر سیل میں پاکستانی فوج کے ظلم کو سہہ رہی ہے، سڑکوں پر تشدد کا مقابلہ کر رہی ہے، جیلوں میں حق کے نعرے بلند کر رہی ہے، اور اپنی زندگی کو بلوچ تحریک کے نام کرنے کے لیے تیار ہے۔

ریاست نے ہمیشہ بلوچ شیرزالوں کی جدوجہد کو طاقت کے زور پر ختم کرنے کی کوشش کی ہے، مگر جب طاقت کارگر ثابت نہ ہوئی تو اب جبری گمشدگیوں اور بلوچ خواتین کے کردار کو متنازع بنانے کے ہتھکنڈے اپنائے جا رہے ہیں، جن میں مذہب کو بطورِ ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے۔ خود کو اسلامی جمہوریہ کہلانے والی یہ ریاست درحقیقت اسلام کی تاریخ میں مسلمان خواتین کے سیاسی، جنگی اور جرات مندانہ کرداروں سے ناواقف دکھائی دیتی ہے، وہ خواتین جنہوں نے غلامی کی زندگی پر شہادت کو ترجیح دی۔ اپنی سرزمین کے دفاع، قومی شناخت کے تحفظ اور غلامی کے خلاف جدوجہد کی اجازت ہمیں اسلامی تعلیمات کے بنیادی اصولوں سے حاصل ہوتی ہے۔ آج بلوچ خواتین بھی انہی اصولوں اور جذبوں کو عملی طور پر زندہ کر رہی ہیں۔

آخر میں، میں اپنی بلوچ قوم سے یہ کہنا چاہتی ہوں کہ ہماری قوم کے ہر باشعور فرد کی جدوجہد اور قربانیوں نے اس تحریک کو اس قدر طاقتور بنا دیا ہے کہ ریاست اپنی تمام تر قوت کے باوجود بلوچ دشمن پالیسیوں کو آپ کے حوصلوں کے سامنے ناکام ہوتے دیکھ رہی ہے۔ اسی خوف کے باعث وہ آج بلوچ خواتین کو نشانہ بنا رہی ہے۔ ایسے میں آپ کی ذمہ داری ہے کہ اپنی ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کو کمزوری نہیں بلکہ اپنی قوت سمجھیں، انہیں مزید سیاسی اور قومی فرائض سے جوڑیں اور تعلیم کے مواقع فراہم کریں۔

آج اس مزاحمت میں ہمارا حوصلہ یہی ہے کہ ہم اپنی بلوچ ماں ہانی بلوچ سمیت ہر بلوچ فرزند کی بازیابی کے لیے جدوجہد جاری رکھیں اور اس غیر انسانی عمل کے خلاف انصاف کا مطالبہ کریں، کیونکہ انصاف کے بغیر کوئی بھی انسانی معاشرہ زندہ نہیں رہ سکتا بلکہ نیست و نابود ہو جاتا ہے۔ یہ ہماری قومی ذمہ داری ہے کہ ہم بلوچ خواتین کی جبری گمشدگیوں کو معمول بننے نہ دیں، ریاستی بیانیے کو مسترد کریں اور اپنی جدوجہد کو پوری استقامت کے ساتھ آگے بڑھاتے رہیں۔ جنگ ایک بے رحم حقیقت ہوتی ہے اور دشمن کبھی جبر سے باز نہیں آتا، اس لیے ہمیں یہ خوش فہمی بھی ترک کر دینی چاہیے کہ وہ ہماری خواتین پر رحم کرے گا۔ بلوچ بیٹیاں اپنی مرضی سے اس جدوجہد کا حصہ بنی ہیں؛ وہ نہ دشمن سے رحم کی اپیل کریں گی اور نہ ہی اپنے انقلابی نظریے پر کوئی سمجھوتہ کریں گی۔ جو ریاست یہ دعویٰ کرتی ہے کہ وہ جھوٹے مقدمات کے ذریعے بلوچ خواتین کو خوف زدہ کر سکتی ہے، تو ماھل بلوچ کی استقامت اور حوصلے اس جبر کا جواب ہیں کہ بلوچ عورت ٹارچر سیل ،جھوٹے مقدمات کا مقابلہ کرکے ریاست کی اپنے بنائے گئے قانون کے تحت اسے شکست دیں کر سرخ روح ہوں گی۔

اتنے مظالم کے باوجود آج بھی تجابان کی سڑک پر ایک بلوچ ماں سراپا احتجاج ہے۔ایک طرف تمام سیاسی جماعتیں، عدلیہ اور میڈیا مل کر ریاستی اداروں کے قصیدہ خواں بنے ہوئے ہیں اور مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں، جبکہ دوسری جانب وہی دلیر بلوچ شیرزال سڑکوں پر حق کا پرچم تھامے ظالم کو للکار رہی ہیں اور اعلان کر رہی ہیں کہ وہ کبھی اپنے قومی حقوق سے دستبردار نہیں ہوں گی اور بلوچ نسل کشی کے خاتمے تک اس جدوجہد کو جاری رکھیں گی۔اگر ریاست کے پاس پوری مشینری ہے ہماری نسل کشی کرنے کیلئے ، تو ہمارے پاس بھی ایک زندگی ہے اپنے ملک و قوم پر قربان کرنے کیلئے جسے دہشتگردی کے بے بنیاد مقدمات خاموش نہیں کراسکتی ہیں۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔