بھارتی شائقین سال 2026 میں جاسوسی تھرلر اور بھارت کی سب سے زیادہ کمائی کرنے والی ہندی فلم “دھریندر” کا سنسر شدہ ورژن دیکھیں گے، کیونکہ فلم میں چند متنازع مکالموں میں ترمیم کی گئی ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق فلم کے کچھ مکالمے بلوچ قوم کے خلاف نفرت انگیز قرار دیے گئے، جس پر اعتراضات کے بعد ایک مکالمہ تبدیل کر دیا گیا اور دو الفاظ، جن میں لفظ “بلوچ” شامل تھا، خاموش کر دیے گئے۔
فلم کی ریلیز کے بعد گجرات کے شہر جوناگڑھ میں بلوچ مکرانی برادری نے شدید احتجاج کیا۔ متنازعہ مکالمہ اداکار سنجے دت نے ادا کیا، جس میں کہا گیا کہ مگرمچھ پر بھروسہ کیا جا سکتا ہے، مگر بلوچ پر نہیں۔
جوناگڑھ بلوچ مکرانی سوسائٹی کے صدر اور وکیل اعجاز مکرانی نے پولیس میں درخواست دائر کی، جس میں اداکار، مکالمہ نگار اور ہدایت کار کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ، نبیل بلوچ نے بھی ہدایت کار آدتیہ دھر اور سنجے دت کو نوٹس بھیجا اور عوامی معافی کے ساتھ فلم سے متنازع مواد ہٹانے کا مطالبہ کیا۔
گزشتہ ہفتے گجرات ہائی کورٹ میں دائر درخواست کی سماعت کے دوران جسٹس اے پی مائی نے درخواست گزاروں سے استفسار کیا کہ یہ مکالمہ کس طرح بلوچ مکرانی برادری کی بدنامی کا سبب بنا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق فلم دھریندر کا ترمیم شدہ ورژن سینما گھروں میں جاری کر دیا گیا ہے اور ملک بھر کے سینما گھروں کو نئی ڈی سی پی فراہم کی گئی ہے۔
تمام تر تنازع کے باوجود فلم کی کامیابی برقرار ہے۔ صرف 29 دنوں میں فلم نے تقریباً 7.4 ارب بھارتی روپے کی کمائی کر کے باکس آفس کے ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔














































